حجة اللہ — Page 188
۱۸۸ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله أمر الله وهم كانوا كارهين ۔ وكان هذا الرجل وقاحا طويل اللسان كثير السب والهذيان، ظاہر ہوا اور وہ کراہت کرتے رہ گئے۔ اور یہ شخص نہایت بے شرم در از زبان تھا بہت گالیاں دیتا اور بکواس کیا کرتا تھا اس نے مجھ سے ایک نشان طـلـب منـى آية ملححًا في طلبه، وشرط لى أن أصرّح الميعاد في عُلبه، وأُصرّح يوم موته، طلب کیا اور طلب کرنے میں بہت اصرار کیا اور یہ شرط لگائی کہ میں اس کے نشان میں میعاد کوکھول کر بتلا دوں اور اس کے موت کے دن کی مع إظهار شهر فوته، وأبين كيفية وفاته، ووقت مماته، وكتب كلها ثم طالب تصریح کروں اور مرنے کا مہینہ بتلاؤں اور جس طرز سے مرے گا وہ کیفیت بیان کروں اور مرنے کا وقت بتاؤں اور ان سب باتوں کو لکھا اور كالمُصرّين ۔ فلبيتُه ممتطيا شملة عناية الرحمن، ومنتضيا سيف قهر الديان ۔ وكنت پھر اصرار کر نیوالوں کی طرح مجھ سے مطالبہ کیا۔ پس میں نے اسکے سوال کا قبول کے ساتھ جواب دیا اس حالت میں کہ میں عنایت الہی کی تیز رو الفرط اللهج بظهور الآية، والطمع فى إعلاء كلمة الملّة، أجاهد في الحضرة الأحدية ونٹنی پر سوارتھ اور نیز اس حالت میں جبکہ میں سزا ہندہ کی قہر تلوار کوکھینچ رہا تھا اور میں از بسکہ نشان کے ظاہر ہونے کیلئے حریص تھا اور اعلاء وأصـرف فـي الـدعــاء مـا جـل وعـظـم من القوة، ثم تركت الدعاء بعد نزول السكينة، کلمہ اسلام کیلئے طمع رکھتا تھا حضرت جناب باری میں مجاہدہ کرتا تھا اور جس قدر مجھ میں عظمت قوت تھی دعا میں خرچ کرتا تھا۔ پھر میں نے سکینہ وتواتر الوحى الدال على الإجابة ۔ فلما انقضى أربع سنة من الميعاد ، ودنا منا عيد من کے نازل ہونے کے بعد دعا کو ترک کر دیا۔ اور نیز اس لئے کہ ایسا متواتر الہام جو قبولیت دعا پر دلالت کرتا تھا پس جب میعاد میں سے الأعياد، أُلقى فى نفسى أن أتوجه مرة ثانية إلى الدعاء ، و ء ، وكذالك أشار بعض ا چار برس گزر گئے اور ایک عید ہم سے قریب آگئی۔ پس میرے دل میں ڈالا گیا کہ میں پھر دعا کروں اور ایسا ہی بعض دوستوں نے اشارہ فصبرت أنتظر الوقت والمحلَّ، وأتعلل بعسى ولعلَّ إلى أن أدركتُ ليلة القدر في کیا۔ پس میں نے صبر کیا اور میں وقت اور محل کا منتظر تھا اور اب کرتا ہوں اب کرتا ہوں کا گھونٹ پی رہا تھا یہاں تک کہ آخر رمضان میں أواخر رمضان، فـعـرفـت أن الـوقـت قـد حـان، ورأيت ليلةً نشرت أردية الاستجابة، | الأصدقاء میں نے لیلۃ القدر کو پایا۔ پس میں نے جان لیا کہ وقت آگیا اور میں نے ایک ایسی رات کو دیکھا جس نے قبولیت کی چادریں بچھا دی تھیں ۔