حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 494

حجة اللہ — Page 167

۱۶۷ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله وبينه سرّ لا يعلمه إلا هو، ـو، فويلٌ للمعتدين ۔ أتحسب الأعداء أن العداوة خير لهم، بل هي ١٩ اور اس میں ایک بھید ہے جو اس کو بغیر میرے خدا کے کوئی نہیں جانتا پس حد سے بڑھنے والوں پر واویلا ہو۔ کیا دشمن یہ جانتے ہیں کہ شر لهم لو كانوا متفكرين ۔ أيظنون أنهم يهدون ما بنته أنامل الرحمن؟ أو يجوحون ما دشمنی کرنا ان کے لئے بہتر ہے؟ نہیں ! بلکہ بد ہے اگر وہ سوچیں۔ کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ خدا تعالی کی عمارت کو وہ مسمار کر دیں گے ؟ یا غرسته أيدى الله ذى المجد والسُلطان؟ كلا بل إنهم من المفتونين۔ اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے؟ ہر گز نہیں ! بلکہ وہ تو آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں ۔ يا معشر الجهلاء والسفهاء وزُمر الأعداء والأشقياء أأنتم تطفئون نور حضرة الكبرياء | اے جاہلوں اور کم عقلوں کے گروہ ! اور دشمنوں اور بدبختوں کی جماعتو! کیا تم جناب الہی کے نور کو بجھا دو گے؟ یا سچوں کو أو تـدوســون الصادقين؟ اتقوا الله، ثم اتقوا إن كنتم عاقلين ۔ أيها الناس فارقوا فُرُشَ الكَرى، پیروں کے نیچے کچل دو گے؟ ڈرو خدا سے ڈروا گر عقلمند ہو۔ اے لوگو خواب کے فرشوں سے الگ ہو جاؤ! کیونکہ وقت نزدیک فإن الوقت قد دنَا، وإن أمر الله أتى، وإنّه يريد ليُحيي الموتى ۔ فهل تريدون حياة لا نزع بعده آ گیا اور خدا کا حکم پہنچ گیا اور وہ ارادہ کرتا ہے کہ مردوں کو زندہ کرے۔ پس کیا تم ایک ایسی زندگی چاہتے ہو جس کے بعد نہ ولا ردى؟ وهل تحبون أن يرضى عنكم ربكم الأعلى، أو تصغرون خدَّكم معرضين؟ جان کندن ہے نہ موت۔ اور کیا تم پسند کرتے ہو کہ خدا تم سے راضی ہو جائے یا منہ پھیرنا اور کنارہ کرنا تمہیں پسند ہے۔ واعلموا أنّى أُعطِيتُ قميص الخلافة، وتسربلتُ لباسها من حضرة العزة اور جان لو کہ مجھے قمیص خلافت دیا گیا ہے۔ اور جناب الہی سے وہ لباس میں نے پہنا ہے۔ پس تم فارحـمـوا أنفسكم ولا تعتدوا كل الاعتداء ، ألا ترون إلى ما تنزل من اپنے نفسوں پر رحم کرو اور حد سے زیادہ مت بڑھو۔ کیا تم وہ نشان نہیں دیکھتے جو آسمان سے اتر ی فيـكـم رَجُل من المتقين؟ ولو كان هذا الأمــر مـن | السو رہے ہیں؟ کیا تم میں ایک بھی پرہیز گار باقی نہیں رہا؟ اور اگر یہ کام بجز خدا کے اور کسی کا