حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 494

حجة اللہ — Page 155

روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله پھر عبد الحق نے لکھا ہے کہ آتھم کی پیشگوئی کے نہ پوری ہونے کے وقت میں کس سے ہے قد رعیسائیوں اور مسلمانوں نے تم پر لعنتیں کیں ۔ یہی سزاد جال کذاب کی تھی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حکم خواتیم پر ہے نافہموں اور نادانوں نے نبیوں اور رسولوں سے بھی اوائل حال میں ایسا ہی کیا ہے۔ پھر آخر اپنی ناسمجھیوں پر روئے۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ بھی یادر ہے کہ اس عبد الحق اور اس کی جماعت کا ایک قلمی خط بھی رمضان کے مہینہ کے سر پر میرے پاس پہونچا۔ چونکہ وہ گالیوں سے بھرا ہوا تھا اس لئے میں نے نہ چاہا کہ رمضان میں اس کا جواب لکھوں مگر وہ خط حضرات غزنوی صاحبوں کا اب تک موجود ہے اور گالیاں جو مجھے دی ہیں وہ یہ ہیں دس ہزار تیرے پر لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت عشره الف مائة کافرا کفر ، دجال، شیطان ، فرعون، قارون، ہامان، اڑڈ پوپو، وادی کا وحشی، کلب یلھٹ یعنی جنگلی کتا۔ ان افغانوں کی شیریں زبانی اور تقوی کا یہ نمونہ ہے۔ اور ایک اور صاحب جو دشنام دہی میں عبدالحق کے چھوٹے بھائی یا بڑے بھائی ہیں اپنے پرچہ درۃ الاسلام میں بہت سی گندہ زبانی کے ساتھ آتھم کی پیشگوئی کا ذکر کرتے ہیں ۔ اب میں کہاں تک ان کو بار بار بتلاؤں کہ آتھم تو پیشگوئی کے موافق زندہ بھی رہا اور مرا بھی۔ اس نے خوف دکھلایا اور بے شرمی ظاہر نہ کی اس لئے خدا نے وعدہ کے موافق اس سے نرمی کی اور کچھ تاخیر کر دی اور لیکھرام نے متواتر شوخیاں ظاہر کیں اس لئے قادر قہار نے کے اندھیرے میں مبتلا نہیں وہ اس بیان کو قبول کریں گے اور تعلیم الہی کے موافق اس کو پائیں گے لیکن جو اپنے نفس اور اپنی نفسانی ضد کے پیرو یا حقیقت شناس نہیں وہ بے باکی اور نفسانی ظلمت کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کریں گے۔ الہام الہی کا ترجمہ معہ تفہیمات الہیہ کے کیا گیا ۔ جس کا ماحصل یہی ہے کہ قدیم سے الہی سنت اسی طرح پر ہے کہ جب تک کوئی کافر اور منکر نہایت درجہ کا بیباک اور شوخ ہو کر اپنے ہاتھ سے اپنے لئے اسباب ہلاکت پیدا نہ کرے تب تک خدا تعالیٰ تعذیب کے طور پر اس کو ہلاک نہیں کرتا اور جب کسی منکر پر عذاب نازل ہونے کا وقت آتا ہے تو اس میں وہ اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے اس پر حکم ہلاکت لکھا جاتا ہے ۔ عذاب الہی کے لئے یہی قانون قدیم ہے اور یہی سنت بقيه حاشيه