حجة اللہ — Page 153
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۵۳ حجة الله سے اترا ہے تم اس کو منہ کی پھونکوں سے بجھا دو گے؟ اگر تم نیک انسان کی ذریت ہو تو بدی میں ﴿۵﴾ اپنے تئیں مت ڈالو ! سمجھ جاؤ اور سنبھل جاؤ! کہ ابھی وقت ہے اور آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم کو غور سے پڑھو۔ آگے تمہارا اختیار ہے ! پھر اسی اشتہار میں اسی بزرگ عبد الحق نے اور بھی گالیاں دی ہیں۔ چنانچہ صفحہ ۲ و ۳ و۴ میں میری نسبت لکھتا ہے۔ بد کار شیطان لعنتی لعن و طعن کا جوت اس کے سر پر ذلیل خوار خستہ خراب اللہ عزوجل کا دشمن خدا کے ولی عبد الحق کا دشمن"۔ پھر اخیر اشتہار میں پیشگوئی کرتا ہے کہ " عنقریب اللہ کا غضب تیرے پر اترے گا۔ میں کہتا ہوں کہ اسے نااہل نادان تو نے یہ اچھا نہیں کیا کہ خدا پر افترا کیا۔ اب دیکھ ! کہ وہ غضب تیرے پر اتر آیا کسی اور پر؟ کیا تیرے گلے میں لعنت کا رسہ پڑا یا کسی اور کے گلے میں؟ تو نے اسی اپنے اشتہار میں دعویٰ کیا تھا کہ میں آگ میں جا سکتا ہوں اور نہیں جلوں گا اور دریا پر چلنے کے لئے حاضر ہوں اور نہیں ڈوبوں گا اور ایک مہینہ تک کوٹھڑی میں بند رہنے کے لئے موجود ہوں اور نہیں مروں گا لیکن اے نابکار! انہیں شوخیوں کی وجہ سے اس وقت خدا نے تیرا منہ کالا کیا۔ خدا کے کھلے کھلے نشان نے تجھے عذاب کی آگ میں ڈالا اور تو جل گیا اور بیچ نہیں سکا۔ تیرے لئے یہ عذاب تھوڑا نہیں ہوا کہ تمام قوموں میں اس نشان کی عظمت ظاہر ہوئی۔ اس آگ نے بے شک مجھے جلا کر راکھ کر دیا۔ تو ندامت کے دریا میں بھی ڈوب گیا اور اس پر چل نہ سکا اور تو خذلان کی نہیں پائے گا اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ایسے کامل اسباب پیدا نہ ہو جائیں جو غضب الہی کو مشتعل کریں اور اگر دل کے کسی گوشہ میں بھی کچھ خوف الہی مخفی ہو اور کچھ دھڑ کہ شروع ہو جائے تو عذاب نازل نہیں ہوتا اور دوسرے وقت پر جاپڑتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ کچھ تعجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو۔ یہ اس عاجز کی جماعت کو خطاب ہے اور پھر فرمایا کہ مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے ( یہ اس عاجز کو خطاب ہے ) اور پھر فرمایا کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کر دیں گے۔ یعنی ان کو ذلت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہو جائے گا۔ اس میں یہ تفہیم ہوئی کہ تم ہی فتحیاب ہو نہ دشمن اور خدا تعالی بس نہیں کرے گا اور نہ باز آئے گا بقيه حاشيه ا بنی اسرائیل: ۳۷