حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 502

حُجة الاسلام — Page 50

روحانی خزائن جلد ۶ ۴۸ حجه الاسلام جس کے لئے ۱۲ دن امرتسر میں ٹھہر نا ضروری ہے کیا ہوگا۔ ان وجوہات کے خیال سے ڈاکٹر صاحب کو بذریعہ خط رجسٹرڈ یہ صلاح دی گئی تھی کہ مناسب ہے کہ چھ دن کے بعد یعنی جب فریقین اپنے اپنے چھ دن پورے کر لیں تو ان میں مباہلہ بھی ہو اور وہ صرف اس قدر کافی ہے کہ فریقین اپنے مذہب کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان چاہیں اور ان نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کی میعاد قائم ہو پھر جس فریق کی تائید میں کوئی آسمانی نشان ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو جس کا مقابلہ فریق مخالف سے نہ ہو سکے تو لازم ہوگا کہ فریق مغلوب اس فریق کا مذہب اختیار کرلے جس کو خدا تعالی نے اپنے آسمانی نشان کے ساتھ غالب کیا ہے اور مذہب اختیار کرنے سے اگر انکار کرے تو واجب ہوگا کہ اپنی نصف جائداد اس بچے مذہب کی امداد کی غرض سے فریق غالب کے حوالہ کر دے یہ ایسی صورت ہے کہ اس سے حق اور باطل میں بکلی فرق ہو جائے گا کیونکہ جب ایک خارق نشان کے مقابل پر ایک فریق بالمقابل نشان دکھلانے سے بکلی عاجز رہا تو فریق نشان دکھلانے والے کا غالب ہونا بکلی کھل جائے گا اور تمام بخشیں ختم ہو جائیں گی اور حق ظاہر ہو جائے گا لیکن ایک ہفتہ سے زیادہ گذرتا ہے جو آج تک جو ۳ رمئی ۱۸۹۳ ء ہے ڈاکٹر صاحب نے اس خط کا کچھ بھی جواب نہیں دیا لہذا اس اشتہار کے ذریعہ سے ڈاکٹر صاحب اور ان کے تمام گروہ کی خدمت میں التماس ہے کہ جس حالت میں انہوں نے اس مباحثہ کا نام جنگ مقدس رکھا ہے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں قطعی فیصلہ ہو جائے اور یہ بات کھل جائے کہ سچا اور قادر خدا کس کا خدا ہے تو پھر معمولی بحثوں سے یہ امید رکھنا طمع خام ہے اگر یہ ارادہ نیک نیتی سے ہے تو اس سے بہتر اور کوئی بھی طریق نہیں کہ اب آسمانی مدد کے ساتھ صدق اور کذب کو آزمایا جائے اور میں نے اس طریق کو بدل و جان منظور کر لیا ہے اور وہ طریق بحث جو منقولی اور معقولی طور پر قرار پایا ہے