حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 502

حُجة الاسلام — Page 48

روحانی خزائن جلد ۶ ۴۶ حجة الاسلام اور وہی اس کے ذمہ دار ہوئے ۔ اور بعد طے ہونے ان تمام مراتب کے ڈاکٹر صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کے اس تحریر پر دستخط ہو گئے جس میں یہ شرائط بہ تفصیل لکھے گئے تھے اور یہ قرار پایا که ۱۵ رمئی ۱۸۹۳ء تک فریقین ان شرائط مباحثہ کو شائع کر دیں اور پھر میرے دوست قادیان میں پہنچے اور چونکہ ڈاکٹر صاحب نے اس مباحثہ کا نام جنگ مقدس رکھا ہے اس لئے ان کی خدمت میں بتاریخ ۲۵ اپریل ۱۸۹۳ء کو لکھا گیا کہ وہ شرائط جو میرے دوستوں نے قبول کئے ہیں وہ مجھے بھی قبول ہیں لیکن یہ بات پہلے سے تجویز ہو جانا ضروری ہے کہ اس جنگ مقدس کا فریقین پر اثر کیا ہوگا۔ اور کیونکر کھلے کھلے طور پر سمجھا جائے گا کہ در حقیقت فلاں فریق کو شکست آگئی ہے کیونکہ سالہا سال کے تجربہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معقولی اور منقولی بحثوں میں گو کیسی ہی صفائی سے ایک فریق غالب آ جائے مگر دوسرے فریق کے لوگ کبھی قائل نہیں ہوتے کہ وہ در حقیقت مغلوب ہو گئے ہیں بلکہ مباحثات کے شائع کرنے کے وقت اپنی تحریرات پر حاشیے چڑھا چڑھا کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنا ہی غالب رہنا ثابت ہو اور اگر صرف اسی قدر منقولی بحث ہو تو ایک معظمند پیشگوئی کر سکتا ہے کہ یہ مباحثہ بھی انہیں مباحثات کی مانند ہوگا جو ابتک پادری صاحبوں اور علماء اسلام میں ہوتے رہے ہیں بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ایسے مباحثہ میں کوئی بھی نئی بات معلوم نہیں ہوتی پادری صاحبوں کی طرف سے وہی معمولی اعتراضات ہوں گے کہ مثلاً اسلام زور شمشیر سے پھیلا ہے اسلام میں کثرت ازدواج کی تعلیم ہے ۔ اسلام کا بہشت ایک جسمانی بہشت ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ایسا ہی ہماری طرف سے بھی وہی معمولی جواب ہوں گے کہ اسلام نے تلوار اُٹھانے میں سبقت نہیں کی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اُٹھائی ہے اور اسلام نے عورتوں اور بچوں اور راہیوں کے قتل کرنے کے لئے حکم نہیں دیا بلکہ جنہوں نے سبقت کر کے اسلام پر تلوار کھینچی وہ تلوار سے ہی مارے