حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 502

حُجة الاسلام — Page 64

روحانی خزائن جلد ۶ ۶۲ حجة الاسلام دلائل ہی کے رنگ میں اب بھی موجود اور نمایاں ہوں ۔ مثلاً اگر کسی کتاب میں بیان کیا گیا ہو کہ فلاں نبی نے بطور معجزہ ایسے ایسے بیماروں کو اچھا کیا تھا تو یہ اور اس قسم کے اور امور است زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک قطعی اور یقینی دلیل نہیں ٹھہر سکتے بلکہ ایک خبر ہے جو منکر کی نظر میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتی ہے بلکہ منکر ایسی خبروں کو صرف ایک قصہ سمجھے گا ۔ اسی وجہ سے یورپ کے فلاسفر مسیح کے معجزات سے جو انجیل میں مندرج ہیں کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا (۲۲) سکتے بلکہ اس پر قہقہہ مار کر بنتے ہیں۔ پس جبکہ یہ بات ہے تو یہ نہایت آسان مناظرہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اہل اسلام کا کوئی فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو کامل مسلمان ہونے کے لئے قرآن کریم میں موجود ہیں۔ اپنے نفس کو ثابت کرے اور اگر نہ کر سکے تو دروغ گو ہے نہ مسلمان ۔ اور ایسا ہی عیسائی صاحبوں میں سے ایک فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو انجیل شریف میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کر کے دکھلائے۔ اور اگر وہ ثابت نہ کر سکے تو وہ دروغ گو ہے نہ عیسائی۔ جس حالت میں دونوں فریق کا یہ دعویٰ ہے کہ جس نور کو ان کے انبیاء لائے تھے وہ نور فقط لازمی نہیں تھا بلکہ متعدی تھا تو پھر جس مذہب میں یہ نور متعدی ثابت ہو گا اسی کی نسبت عقل تجویز کرے گی کہ یہی مذہب زندہ اور سچا ہے کیونکہ اگر ہم ایک مذہب کے ذریعہ سے وہ زندگی اور پاک نور معہ اس کی تمام علامتوں کے حاصل نہیں کر سکتے جو اس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے تو ایسا مذہب بجز لاف گزاف کے زیادہ نہیں۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کوئی نبی پاک تھا۔ مگر ہم میں سے کسی کو بھی پاک نہیں کر سکتا۔ اور صاحب خوارق تھا مگر کسی کو صاحب خوارق نہیں بنا سکتا اور الہام یافتہ تھا مگر ہم میں سے کسی کو ملہم نہیں بنا سکتا تو ایسے نبی سے ہمیں کیا فائدہ مگر الحمد لله و المنة كہ ہمارا سید و رسول خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں تھا اس نے ایک جہان کو وہ نور حسب مراتب استعداد بخشا کہ جو اس کو ملا تھا۔ اور اپنے نورانی نشانوں سے وہ شناخت کیا گیا۔ وہ ہمیشہ کے لئے نور تھا جو بھیجا گیا۔ اور اس سے پہلے کوئی ہمیشہ