حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 502

حُجة الاسلام — Page 57

روحانی خزائن جلد ۶ ۵۵ حجة الاسلام توریت استثناء ۱۸-۱۸ سچا ٹھہرے گا ہاں یہ سچ ہے کہ ایسا نشان کسی امر ممکن کا مصدق ہونا چاہیے ور نہ یہ تو جائز نہیں کہ کوئی انسان مثلا یہ کہے کہ میں خدا ہوں اور اپنی خدائی کے ثبوت میں کوئی پیشگوئی کرے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو پھر وہ خدا اما نا جاوے۔ لیکن میں اس جگہ آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب اس عاجز نے ملہم اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کیا تھا تو ۱۸۸۸ء میں مرزا امام الدین نے جس کو آپ خوب جانتے ہیں چشمہ نور امرت سر میں میرے مقابل پر اشتہار چھپوا کر مجھ سے نشان طلب کیا تھا تب بطور نشان نمائی ایک پیشگوئی کی گئی تھی جو نور افشاں ۱۰ رمئی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوگئی تھی جس کا مفصل ذکر اس اخبار میں اور نیز میری کتاب آئینہ کمالات کے صفحہ ۲۸۰،۲۷۹ میں موجود ہے اور وہ پیشگوئی ۳۰ / ستمبر ۱۸۹۲ء کو اپنی میعاد کے اندر پوری ہوگئی۔ سواب بطور آزمائش آپ کے انصاف کے آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ نشان ہے یا نہیں اور اگر نشان نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے اور اگر نشان ہے اور آپ نے اس کو دیکھ بھی لیا اور نہ صرف نو را فشاں ۱۰ رمئی ۱۸۸۸ء میں بلکہ میرے اشتہار مجریہ ارجولائی ۱۸۸۸ء میں بقید میعاد یہ شائع بھی (۱۸) ہو چکا ہے تو آپ فرما دیں کہ آپ کا اس وقت فرض عین ہے یا نہیں کہ اس نشان سے بھی فائدہ اٹھا دیں اور اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور براہ مہربانی مجھ کو اطلاع دیں کہ کیا اصلاح کی اور کس قدر عیسائی اصول سے آپ دست بردار ہو گئے کیونکہ یہ نشان تو کچھ پرانا نہیں ابھی کل کی بات ہے کہ نور افشاں اور میرے اشتہار ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا تھا اور آپ کے یہ تمام شرائط کے موافق ہے میرے نزدیک آپ کے انصاف کا یہ ایک معیار ہے اگر آپ نے اس نشان کو مان لیا اور حسب اقرار اپنے اپنی غلطی کی بھی اصلاح کی تو مجھے پختہ یقین ہوگا کہ اب آئندہ بھی آپ اپنی بڑی اصلاح کے لئے مستعد ہیں اس نشان کا اس قدر تو آپ پر اثر ضرور ہونا چاہیے کہ کم سے کم آپ یہ اقرار اپنا شائع