حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 502

حُجة الاسلام — Page 56

روحانی خزائن جلد ۶ ۵۴ حجة الاسلام طرف سے مجاز ہوگا کہ عام طور پر اخباروں کے ذریعہ سے یا اپنے رسائل مطبوعہ میں اسکو شائع کرے فقط یہ تحریر آپ کی طرف سے بقید نام و مذہب و ولدیت وسکونت ہو اور فریقین کے پچاس پچاس معزز اور معتبر گواہوں کی شہادت اُس پر ثبت ہو تب تین اخباروں میں اس کو آپ شائع کرادیں۔ جبکہ آپ کا منشاء اظہار حق ہے اور یہ معیار آپ کے اور ہمارے مذہب کے موافق ہے تو اب برائے خدا اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں اب بہر حال وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ سچے مذہب کے انوار اور برکات ظاہر کرے اور دنیا کو ایک ہی مذہب پر کر دیوے سواگر آپ دل کو قوی کر کے سب سے پہلے اس راہ میں قدم ماریں اور پھر اپنے عہد کو بھی صدق اور جوانمردی کے ساتھ پورا کریں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہریں گے اور آپ کی راستبازی کا یہ ہمیشہ کے لئے ایک نشان رہے گا۔ اور اگر آپ یہ فرماویں کہ ہم تو یہ سب باتیں کر گذریں گے اور کسی نشان کے دیکھنے کے بعد دین اسلام قبول کر لیں گے یا دوسری شرائط متذکرہ بالا بجالائیں گے اور یہ عہد پہلے ہی سے تین اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر تم ہی جھوٹے نکلے اور کوئی نشان دکھلا نہ سکے تو تمہیں کیا سزا ہو گی تو میں اس کے جواب میں حسب منشاء توریت سزائے موت اپنے لئے قبول کرتا ہوں اور اگر یہ خلاف قانون ہو تو کل جائداد اپنی آپ کو دوں گا ۔ جس طرح چاہیں پہلے مجھ سے تسلی کرالیں ۔ قولہ ۔ لیکن یہ جناب کو یادر ہے کہ معجزہ ہم اُسی کو جانیں گے جو ساتھ تحدی مدعی معجزہ کے بظہور آوے اور کہ مصدق کسی امر ممکن کا ہو۔ اقول ۔ اس سے مجھے اتفاق ہے اور تحدی اسی بات کا نام ہے کہ مثلاً ایک شخص منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے دعوے کی تصدیق کے لئے کوئی ایسی پیشگوئی کرے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہو اور وہ پیشگوئی سچی نکلے تو وہ حسب منشاء