حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 477 of 550

حقیقة المہدی — Page 477

۔تو آپ میری بریت کے لئے باہر نکل، تو ہی میرا حصار اور جائے پناہ اور ٹھکانا ہے۔وہ آگ جو تو نے میرے دل میں روشن کی ہے اور اس کے شعلوں سے تو نے اپنے غیر کو جلا دیا ہے۔اسی آگ سے میرے چہرہ کو بھی روشن کر دے اور میری اس اندھیری رات کو دن سے بدل دے صفحہ ۴۳۵۔اس اندھی دنیا کی آنکھیں کھول اور اے سخت گیر خدا تو اپنا زور دکھا۔آسمان سے اپنے نشان کا نور ظاہر کر اور اپنے باغ میں سے ایک پھول دکھا۔میں اس جہان کو فسق وفجور سے ُپر دیکھتا ہوں غافلوں کو موت کا وقت یاد نہیں رہا۔وہ حقایق سے غافل اور ناوقف ہیں اور بچوں کی طرح کہانیوں کے شائق ہیں۔ان کے دل خدا کی محبت سے سرد ہیں اور دلوں کے رُخ خدا کی طرف سے پھر گئے ہیں۔سیلاب جوش پر ہے اور رات سخت اندھیری۔مہربانی فرما کر سورج چڑھا دے