حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 550

حقیقة المہدی — Page 474

صفحہ ۳۱۰۔دنیا کے تمام حسینوں کو زیوروں سے زینت دی جاتی ہے۔تو ایسا روپہلی بدن حسین ہے کہ زیوروں کو زینت بخشتا ہے صفحہ ۳۲۵۔پس جبکہ میں ہی نہ رہا تو تو کس کام کے لئے آئے گا صفحہ ۳۶۳۔لوگو ! بے نیاز اور سخت قہار خدا سے ڈرو میں نہیں سمجھتا کہ متقی اور نیک آدمی کبھی نقصان اٹھاتا ہو۔مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ شخص کبھی رسوا ہوا ہو جو اُس یار سے ڈرتا ہے جو ّغفار و ّ ستار ہے۔اگر وہ چیز جسے میں دیکھ رہا ہوں دوست بھی دیکھتے تو حصول دنیا سے رو رو کر توبہ کرتے۔لوگوں کی بدکاریوں سے چمکتا ہوا سورج بھی سیاہ ہو گیا اور زمین بھی ڈرانے کی خاطر طاعون لا رہی ہے۔یہ مصیبت قیامت کی مانند ہے اگر تو غور کرے اور اس کے دور کرنے کا علاج سوائے نیک اعمال کے اور کچھ نہیں۔اُس بارگاہِ عالی سے سرکشی نہیں کرنی چاہیے اگر وہ چاہے تو ایک دم میں نکمے کیڑے کی طرح تجھے فنا کر دے۔میں نے ہمدردی سے یہ بات کہی ہے اب تو خود غور کر لے۔اے سمجھ دار انسان عقل اسی دن کے لئے ہوا کرتی ہے صفحہ ۳۶۴۔بدخواہ کی آنکھ کہ خدا کرے پھوٹ جائے، اسے ہنر بھی عیب دکھائی دیتا ہے صفحہ ۳۷۴۔اے اولو العزم بادشاہ، سایہ فضل خدا، انبیاء کے جان و دل اور اولیاء کے سرتاج۔جلوہ حسن ازل تیرے رخ انور کا پرتو ہے۔تیرے رخسار کا صحیفہ خدا کے نور کی آیت ہے۔تیری خوشنما قامت باغ قدس کے نخل اور تیرا خوبصور چہرہ صاف اور منور سورج کی مانند ہے۔تیری لطف و مہربانی کی ایک نظر ہر دکھ اور درد کی دوا اور درمان ہے اور تیرا دیدار ہر مرض کے لئے شفا بخش نسخہ ہے