حقیقة المہدی — Page 442
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۴۲ حقيقت المهدى اور اعتراض کا نام ونشان نہ رہے گا۔ وو خوب یا د رکھنا چاہیے کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی بھی امر ایسا نہیں ہے جس کی نظیر پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں میں نہیں ہے۔ یہ جاہل اور بے تمیز لوگ چونکہ دین کے باریک علوم اور معارف سے بے بہرہ ہیں اس لئے قبل اس کے جو عادۃ اللہ سے واقف ہوں بخل کے جوش سے اعتراض کرنے کے لئے دوڑتے ہیں اور ہمیشہ بموجب آیت کریمہ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوابِرَ ، میری کسی گردش کے منتظر ہیں اور عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوْءِ کے مضمون سے بے خبر ۔ ان میں سے ایک نے علم جفر کا دعویٰ کر کے میری نسبت لکھا ہے کہ بذریعہ جفر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص کا ذب سے ، مگر یہ نادان نہیں کہ جفر وہی جھوٹا اور مردود علم ہے جس کے ذریعہ سے شیعہ یہ باتیں نکالا کرتے ہیں کہ ابو بکر اور عمر نعوذ باللہ ظالم اور دائرہ ایمان سے خارج ہیں۔ پس ایسے جھوٹے طریق کا وہی لوگ اعتبار کریں گے جن کے دل سچائی سے مناسبت نہیں رکھتے ۔ اگر اس قسم کے حساب سے کوئی ہندو یہ جواب نکالے کہ فقط ہندو مذہب ہی سچا ہے اور باقی تمام نبیوں کے مذاہب جھوٹے ہیں تو کیا وہ مذہب جھوٹے ہو جائیں گے؟ افسوس یہ لوگ مسلمان کہلا کر کن کمینہ خیالات میں مبتلا ہیں ۔ ۔ حالانکہ کشف اور خواب بھی ہر ایک کے یکساں نہیں ہوتے ۔ وہ کامل کشف جس کو قرآن شریف میں اظہار علی الغیب سے تعبیر کیا گیا ہے جو دائرہ کی طرح پورے علم پر مشتمل ہوتا ہے وہ ہر ایک کو عطا نہیں کیا جاتا صرف برگزیدوں کو دیا جاتا ہے۔ اور ناقصوں کا کشف اور الہام ناقص ہوتا ہے جو بالآخر ان کو بہت شرمندہ کرتا ہے۔ اظہار علی الغیب کی حقیقت یہ ہے کہ جیسے کوئی اونچے مکان پر چڑھ کر ارد گرد کی چیزوں کو دیکھتا ہے۔ تو بلا شبہ آسانی سے ہر ایک چیز اس کو نظر آ سکتی ہے ۔ لیکن جو شخص نشیب کے مکان سے ایسی چیزوں کو دیکھنا چاہتا ہے تو بہت سی چیزیں دیکھنے سے رہ جاتی ہیں ۔ اور برگزیدوں سے خدا کی یہ عادت ہے کہ ان کی نظر کو اونچے مکان تک لے جاتا ہے۔ تب وہ آسانی سے ہر ایک چیز کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور انجام کی خبر دیتے ہیں۔ اور ل و التوبة : ۹۸