حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 550

حقیقة المہدی — Page 440

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۴۰ حقيقت المهدى پیشگوئیوں کے مضمون کے موافق ان دونوں نے وفات پا کر پیشگوئیوں کو سچا کر دیا۔ ایک اپنی موت سے مرا اور دوسرا کسی کے مارنے سے۔ عبداللہ ا نظم جو اپنی موت سے مرا تھا اس نے زمانہ پیشگوئی میں کبھی ظاہر نہ کیا کہ اس کے مارنے کے لئے کبھی کوئی حملہ ہوا۔ چونکہ پیشگوئی شرطی تھی اس لئے اس نے اسلامی عظمت کا خوف دل میں پیدا کر کے اس قدر فائدہ اٹھا لیا کہ جب تک وہ خاموش رہا زندہ رہا اور جب اس نے عیسائیوں کی تعلیم سے یہ کہنا شروع کیا کہ میں نے اسلامی عظمت سے کچھ خوف نہیں کیا۔ تو اس جھوٹ بولنے کی وجہ سے خدا نے اس کو جلد تر اٹھا لیا تا پیشگوئی کا پورا ہونا لوگوں پر ظاہر کرے۔ جیسا کہ میرے الہام میں پہلے سے یہی درج تھا۔ سو عبد اللہ آتھم کی نسبت دو طور سے پیشگوئی پوری ہوئی۔ اول الہامی شرط کے موافق اسلامی عظمت سے خوف کرنے اور پندرہ مہینے تک تحقیر اسلام سے زبان بند رکھنے کی وجہ سے خدائے رحیم نے اس کو مہلت دی جیسا کہ وعید کی پیشگوئیوں میں سنت اللہ ہے اور پھر پندرہ مہینے یعنی میعاد پیشگوئی گزرنے کے بعد اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس نے اس خوف کی وجہ سے فائدہ مہلت اور تاخیر کا نہیں اٹھایا بلکہ اتفاقاً ایسا ہی ہو گیا۔ سو اس خیال پر جب اس نے اصرار کیا اور چند افترا بھی کئے اور سمجھا کہ اب میں بچ گیا تو خدائے تعالیٰ نے اس سے اپنی امان کو واپس لے لیا اور میرے آخری اشتہار سے چھ مہینے کے اندر وہ فوت ہو گیا تا لوگوں کو معلوم ہو کہ صرف شرط سے اس نے فائدہ اٹھایا تھا شرط کو توڑا اور فوراً پکڑا گیا۔ پس آتھم میں دو پیشگوئیاں پوری ہوئیں (۱) شرط سے فائدہ اٹھانے کی (۲) اور شرط توڑنے کے بعد فوراً پکڑے جانے کی۔ اور لیکھرام کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی۔ اس لئے وہ ایک ہی پہلو پر پوری ہوئی۔ کیسے نادان اور ظالم اور خائن وہ شخص ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ہم ان کو بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ بعض بخیل طبع دل کے اندھے ایک دو اور پیشگوئیوں پر