حقیقة المہدی — Page 439
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۳۹ حقيقت المهدى ہاتھ سے لکھے اور محمد بخش جعفر زٹلی لاہوری اور ابوالحسن تبتی کے نام پر چھپوا دیئے ۔ اور پھر اکثر مضمونوں کو نقل کے طور پر اپنے رسالوں میں لکھتا رہا۔ یہ تمام ثابت شدہ امور ہیں صرف ظنی باتیں نہیں ہیں۔ اور پھر اس پر بھی اکتفا نہ کی اور میرے قتل کا فتوی دیا۔ بارہا مباہلہ کی درخواست کی اور پھر اعراض کیا اور مجھے بدنام کیا کہ مباہلہ نہیں کرتے ۔ یہی موجبات تھے جن کی وجہ سے میں نے اشتہار مباہلہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو شائع کیا۔ جس کے بعد محمد حسین نے ایک چھری خریدی جس سے مجھے اس طور سے بد نام کرنا منظور تھا کہ گویا میں اس کو قتل کرنا چاہتا ہوں ۔ لیکن جس شخص نے پہلے اس سے میرے قتل کا فتوی دیا اس کا چھری خرید نا کس بات پر دلالت کرتا ہے۔ سوچنا چاہیے کہ میں نے اپنی پیشگوئی کے معنی صاف طور پر اشتہار میں درج کئے تھے کہ اس سے مراد کسی کی موت وغیرہ نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ جو شخص جھوٹا ہے وہ علماء اور اہلِ انصاف کی نظر میں ذلیل ہوگا۔ اور اس ذلت کو قانون سے کچھ تعلق نہ تھا مگر تا ہم بعض اہل غرض نے مجھے قانون کا نشانہ بنانا مدعا رکھ کر حکام تک اس بات کو پہنچایا۔ اگر دو چار عربی جاننے والوں سے اس الہام کے حلفاً معنے پوچھے جاتے اور سب سے پہلے چند عربی دان لوگوں کا میرے روبروئے اظہا ر لیا جاتا تو یہ مقدمہ ایک قدم بھی نہ چل سکتا کیونکہ ایسی ذلت کو جو علماء کے فتوے پر موقوف ہے قانون سے کچھ بھی تعلق نہ تھا مگر ایسا نہ ہوا اور اسی وجہ سے بڑا حرج پیش آیا۔ حالانکہ اشتہار ۲۱ نومبر اور ۳۰ نومبر ۱۸۹۸ء میں اس کی تشریح بھی موجود تھی۔ محمد حسین نے اپنی پرانی عادت کے موافق آتھم اور لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس سے اس طور سے فائدہ اٹھانا چاہا کہ گویا وہ تمام شور اور خونریزی میرے مشورہ اور ایما سے ہوئی تھی۔ اور ایسی پیشگوئیاں میرا قدیم شیوہ ہے ۔ مگر افسوس کہ کسی کو اب تک یہ خیال نہیں آیا کہ وہ دونوں پیشگوئیاں ان دونوں شخصوں کے سخت اصرار کے بعد ہوئی تھیں اور انہوں نے خود اپنی رضا مندی سے ان پیشگوئیوں کو میرے شائع کرنے سے پہلے شائع کیا تھا جس کے ثبوت کافی طور پر موجود ہیں تو پھر میرے پر کون سا الزام تھا۔ ہاں