حقیقة المہدی — Page 438
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۳۸ حقيقت المهدى (۵) دوسرے مولویوں سے ان کے مہدی کے متعلق عقائد سے اتفاق رائے ظاہر کیا اور اسی طرح امیر کا بل کو بھی خوش کیا اور اس سے بہت سا روپیہ انعام پایا۔ اور گورنمنٹ کے پاس یہ بیان کیا کہ گویا وہ ایسے عقائد سے بیزار اور ایسی حدیثوں کو سراسر غلط اور موضوع سمجھتا ہے۔ کیا یہ قابل تعریف خصلت ہے؟ ہرگز نہیں۔ منافقوں سے نہ خدا تعالیٰ راضی ہوسکتا ہے اور نہ کوئی دانا گورنمنٹ راضی ہو سکتی ہے۔ ظاہر و باطن ایک ہونا نہایت عمدہ خصلت ہے۔ گورنمنٹ سوچ سکتی ہے کہ یہ لوگ مجھ سے کیوں ناراض ہیں اور اصل جڑ ناراضگی کی کیا ہے۔ گورنمنٹ کے لئے سرسید احمد خاں کے ہی۔ایس آئی کی شہادت کافی ہے جس کو وہ آخری وقت میں میری نسبت شائع کر گئے بلکہ تمام مسلمانوں کو نصیحت دی کہ اس شخص کے اس طریق عمل پر چلنا چاہیے جو گورنمنٹ انگریزی کی نسبت اس کے خیالات ہیں۔ کون نیک دل انسان ہے جو اس بات پر اطلاع پا کر افسوس نہیں کرے گا کہ محمد حسین نے نہایت کمینہ پن سے مسلمانوں کو میرے دکھ دینے کے لئے آمادہ کر دیا۔ میں اپنے طور پر روحانی امور کی دعوت کرتا تھا اور بھی میں نے محمد حسین کو مخاطب نہیں کیا تھا کہ یک دفعہ اس نے خود بخود میرے لئے استفتاء طیار کیا اور یہ کوشش کرنا چاہا کہ لوگ مجھے کافر اور دجال قرار دیں۔ پہلے وہ فتویٰ اپنے استادنذیر حسین دہلوی کے سامنے پیش کیا۔ چونکہ نذیر حسین مذکور اُسی کا ہم مشرب اور ہم مادہ ہے اور حواس بھی پیرانہ سالی کے ہیں اور فطرتا کو نہ اندیش ملاؤں کی طرح بغض اور بخل بھی بہت ہے اسی لئے فی الفور بلا توقف میرے کفر پر گواہی دی ۔ پھر کیا تھا تمام اس کے فضلہ خوار شاگردوں نے تکفیر کا فتویٰ دے دیا۔ خیر یہ تو وہ امر ہے کہ مرنے کے بعد ہر ایک شخص معلوم کر لے گا کہ کون کافر اور کون مومن ہے لیکن اس جگہ صرف یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ محمد حسین نے خواہ نخواہ سرا سرعناد کی وجہ سے فتوی طیار کیا اور ہندوستان میں جابجاسیر کر کے صدہا مہریں اُس پر لگوائیں کہ یہ شخص کا فر اور دجال ہے اور پھر اُس وقت سے آج تک تو ہین اور تحقیر اور گالیاں دینے سے باز نہ آیا اور گندی گالیوں کے مضمون اپنے