حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 550

حقیقة المہدی — Page 436

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۳۶ حقيقت المهدى (۳) کچھ توجہ نہ کی تو پھر اپی قوم کو اکسانا شروع کیا اور میری نسبت یہ فتویٰ شائع کیا کہ اس شخص کا قتل کرنا موجب ثواب ہے ۔ چنانچہ اس کے فتویٰ کو دیکھ کر اور کئی مولویوں نے بھی قتل کا فتوی دے دیا۔ پس بلاشبہ یہ سچ ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے فضل سے یہ سامان پیدا نہ کرتا کہ اس گورنمنٹ عالیہ کے زیر سایہ مجھے پناہ دیتا تو معلوم نہیں کہ ایسے غازی مجاہد اب تک کیا کچھ نہ دکھاتے ۔ یہ شخص بار بار مجھے امیر کابل کی دھمکی دیتا رہا ہے کہ وہاں چلو تو پھر زندہ نہ آؤ گے۔ یہ تو ہمیں معلوم تھا کہ یہ شخص امیر کابل کے پاس ضرور گیا تھا۔ مگر یہ بھید اب تک نہیں کھلا کہ امیر نے اس شخص کو میرے قتل کی نسبت کیوں اور کس وجہ سے وعدہ دیا۔ مگر یادر ہے کہ میرے منافقانہ اصول نہیں ہیں ۔ اگر اس شخص نے امیر کو میری نسبت یہ کہ کر برگشتہ کیا ہے کہ یہ شخص اس مہدی اور مسیح کے آنے سے منکر ہے جس کا انتظار جسمانی خیالات کے لوگ کر رہے ہیں تو مجھے حق بات کے بیان کرنے میں امیر کابل کا کیا خوف ہے میں بر ملا کہتا ہوں کہ اس غازی مہدی اور غازی مسیح کے آنے کا میں منکر ہوں گو یہ کلمات کسی بے ادبی پر حمل کئے جائیں ۔ مگر جو کچھ خدا نے میرے پر ظاہر کیا میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا ۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ روحانی طور پر اسلام کو ترقی ہوگی اور امن اور صلح کاری سے سچائی پھیلے گی۔ مگر اس شخص کی حالت پر سخت افسوس ہے کہ کئی رنگ بدلاتا ہے مولویوں کو در پردہ کچھ کہتا ہے اور گورنمنٹ انگریزی کو کچھ اور ۔ پھر امیر کابل کے پاس اس کے خوش کرنے کے لئے اس کی مرضی کے موافق عقائد ظاہر کرتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اس شخص نے کابل میں جا کر اپنے وجود کو عقیدہ کے رو سے امیر کے اغراض کے موافق ظاہر کیا ہے کیونکہ اگر امیر کا بل ایسا ہی شخص ہے جو اپنے مخالف عقیدہ کو پا کر فی الفور قتل کر دیتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے امیر سے یہ کیونکر بیچ کر آگیا ۔ کیا یہ شخص اقرار کر سکتا ہے کہ یہ امیر کابل کا ہم عقیدہ ہے۔ رہے میرے عقائد ، سوجیسا کہ وہ واقعی سچے ہیں ایسا ہی وہ ہر ایک فتنہ سے پاک اور مبارک ہیں ۔ ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ ہمارے یہ عقائد کہ کوئی مہدی یا مسیح