حقیقةُ الوحی — Page 71
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة نشان اس قسم کے ہیں کہ ہزار ہا انسانوں نے محض اس وجہ سے میری بیعت کی کہ خواب میں اُن کو بتلا یا گیا کہ یہ سچا ہے اور خدا کی طرف سے ہے اور بعض نے اس وجہ سے بیعت کی کہ آنحضرت کو خواب میں دیکھا اور آپ نے فرمایا کہ دنیا ختم ہونے کو ہے اور یہ خدا کا آخری خلیفہ اور مسیح موعود ہے۔ اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو بعض اکابر نے میری پیدائش یا بلوغ سے پہلے میرا نام لے کر میرے مسیح موعود ہونے کی خبر دی جیسے نعمت اللہ ولی اور میاں گلاب شاہ ساکن جمالپور ضلع لدھیانہ اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن کا دامن ہر ایک قوم کے مقابل پر اور ہر ایک ملک تک اور ہر ایک زمانہ تک وسیع چلا گیا ہے اور وہ سلسلہ مباہلات ہے جس کے بہت سے نمونے دنیا نے دیکھ لئے جملے ہیں اور میں کافی مقدار دیکھنے کے بعد مباہلہ کی رسم کو اپنی طرف سے ختم کر چکا ہوں لیکن ہر ایک جو مجھے کذاب سمجھتا ہے اور ایک مکار اور مفتری خیال کرتا ہے اور میرے دعوی مسیح موعود کے بارہ میں میرا مکذب ہے اور جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی اُس کو میرا افتر اخیال کرتا ہے۔ وہ خواہ مسلمان کہلاتا ہو یا ہندویا آریہ یاکسی اور مذہب کا پابند ہو۔ اس کو بہر حال اختیار ہے کہ اپنے طور پر مجھے مقابل پر رکھ کر تحریری مباہلہ شائع کرے یعنی خدا تعالیٰ کے سامنے یہ اقرار چند اخباروں میں شائع کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے یہ بصیرت کامل طور پر حاصل ہے کہ یہ شخص ( اس جگہ تصریح سے میرا نام لکھے ) جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے در حقیقت کذاب ہے اور یہ الہام جن میں سے بعض اُس نے اس کتاب میں لکھے ہیں یہ خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ سب اُس کا افترا ہے اور میں اُس کو در حقیقت اپنی کامل (11) بصیرت اور کامل غور کے بعد اور یقین کامل کے ساتھ مفتری اور کذاب اور دجال سمجھتا ہوں ۔ پس حمد ہر ایک منصف مولوی غلام و نگیر قصوری کی کتاب کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح اُس نے اپنے طور پر میرے ساتھ مباہلہ کیا اور اپنی کتاب فیض رحمانی ﷺ میں اس کو شائع کر دیا اور پھر اس مباہلہ سے صرف چند روز بعد فوت ہو گیا اور کس طرح چراغدین جموں والے نے اپنے طور سے مباہلہ کیا اور لکھا کہ ہم دونوں میں سے جھوٹے کو خدا ہلاک کرے۔ اور پھر اس سے صرف چند روز بعد طاعون سے مع اپنے دونوں لڑکوں کے ہلاک ہو گیا ۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” فتح رحمانی “ ہونا چاہیے۔(ناشر)