حقیقةُ الوحی — Page 70
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة اب میں بموجب آیۃ کریمہ وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اُس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے میری تائید میں اُس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۶ ار جولائی ۱۹۰۶ ء ہے۔ اگر میں اُن کو فردا فردا شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو میں اُس کو ثبوت دے سکتا ہوں ۔ بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک محل پر اپنے وعدہ کے موافق مجھ کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا۔ اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں ہر محل میں اپنے وعدہ کے موافق میری ضرورتیں اور حاجتیں اُس نے پوری کیں اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں اُس نے ہمو جب اپنے وعدہ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهانتک کے میرے پر حملہ کرنے والوں کو ذلیل اور رسوا کیا اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو مجھے پر مقدمات دائر کرنے والوں پر اُس نے اپنی پیشگوئیوں کے مطابق مجھ کو فتح دی اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری مدت بعث سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے یہ مدت در از کسی کا ذب کو نصیب نہیں ہوئی اور بعض نشان زمانہ کی حالت دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں یعنی یہ کہ زمانہ کسی امام کے پیدا ہونے کی ضرورت تسلیم کرتا ہے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں دوستوں کے حق میں میری دعا ئیں منظور ہوئیں اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو شریر دشمنوں ۲۸ پر میری بددعا کا اثر ہوا اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری دعا سے بعض خطر ناک بیماروں نے شفا پائی اور اُن کی شفا کی پہلے خبر دی گئی۔ اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میرے لئے اور میری تصدیق کے لئے عام طور پر خدا نے حوادث ارضی یا سماوی ظاہر کئے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے ممتاز لوگوں کو جو مشاہیر فقراء میں سے تھے خوا ہیں آئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا جیسے سجادہ نشین صاحب العلم سندھ جن کے مرید ایک لاکھ کے قریب تھے اور جیسے خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے اور بعض الضحى: ۱۲