حقیقةُ الوحی — Page 67
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۷ حقيقة جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب ان تمام آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ٹھیرایا گیا مگر ظاہر ہے کہ وہ خدا کا ہاتھ نہیں ہے۔ ایساہی ایک جگہ فرمایا: فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا پس تم خدا کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔ پس اس جگہ خدا تعالیٰ کو باپ کے ساتھ تشبیہ دی اور استعارہ بھی صرف تشبیہ کی حد تک ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے یہودیوں کا ایک قول بطور حکایت عن اليهود قرآن شریف میں ذکر فرمایا ہے اور وہ قول یہ ہے کہ نَحْنُ ابْنَ اللهِ وَاحِباؤُه یعنی ہم خدا کے بیٹے اور اُس کے پیارے ہیں۔ اس جگہ ابناء کے لفظ کا خدا تعالیٰ نے کچھ رد نہیں کیا کہ تم کفر بکتے ہو بلکہ یہ فرمایا کہ اگر تم خدا کے پیارے ہو تو پھر وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے اور ابناء کا دوبارہ ذکر بھی نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کی کتابوں میں خدا کے پیاروں کو بیٹا کر کے بھی پکارتے تھے۔ (۲۵) اب اس تمام بیان سے ہماری غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کسی کے ساتھ پیار کرنا اس بات سے مشروط کیا ہے کہ ایسا شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے کیا چنانچہ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کا رانسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے۔ اس طرح پر کہ خود اُس کے دل میں محبت الہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہے اور اُس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے تب محبت الہی کی ایک خاص تجلی اس پر پڑتی ہے اور اُس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قومی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے تب جذبات نفسانیہ پر وہ غالب آجاتا ہے اور اُس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک ہا اگر کوئی کہے کہ غرض تو اعمال صالحہ بجالانا ہے تو پھر ناجی اور مقبول بننے کیلئے پیروی کی کیا ضرورت ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اعمال صالحہ کا صادر ہونا خدا تعالی کی توفیق پر موقوف ہے پس جبکہ خدا تعالی نے ایک کو اپنی عظیم الشان مصلحت سے امام اور رسول مقر فرمایا اور اس کی اطاعت کے لئے حکم دیا تو جو شخص اس حکم کو پا کر پیروی نہیں کرتا اُس کو اعمال صالحہ کی توفیق نہیں دی جاتی ۔ منہ البقرة : ٢٠١ المائدة : ١٩