حقیقةُ الوحی — Page 61
روحانی خزائن جلد ۲۲ บ حقيقة اپنی جان بچانے کے لئے رو رو کر ایک باغ میں دعا کی اور وہ بھی منظور نہ ہوئی اور پھر گھبراہٹ اس قدر اس پر غالب آئی کہ صلیب پر چڑھنے کے وقت ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر اپنے خدا کو خدا کر کے پکارا اور اس شدت بے قراری میں باپ کہنا بھی بھول گیا۔ کیا اُس کی نسبت کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اُس نے اپنی مرضی سے جان دی۔ عیسائیوں کے اس متناقض بیان کو کون سمجھ سکتا ہے کہ ایک طرف تو یسوع کو خدا ٹھیرایا جاتا ہے پھر وہی خدا کسی اور خدا کے آگے رورو کر دعا کرتا ہے جبکہ تینوں خدا یسوع کے اندر ہی موجود تھے اور وہ اُن سب کا مجموعہ تھا تو پھر اُس نے کس کے آگے رو رو کر دعا کی۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک اُن تین خداؤں کے علاوہ کوئی اور بھی زبر دست خدا ہے جو اُن سے الگ اور اُن پر حکمران ہے جس (۵۹) کے آگے تینوں خداؤں کو رونا پڑا۔ پھر جس غرض کے لئے خود کشی اختیار کی گئی وہ غرض بھی تو پوری نہ ہوئی۔ غرض تو یہ تھی که یسوع کو ماننے والے گناہ اور دنیا پرستی اور دنیا کے لالچوں سے باز آجا ئیں مگر نتیجہ برعکس ہوا۔ اس خود کشی سے پہلے تو کسی قدر یسوع کے ماننے والے رو بخدا بھی تھے مگر بعد اس کے جیسے جیسے خودکشی اور کفارہ کے عقیدہ پر زور دیا گیا اُسی قدر دنیا پرستی اور دنیا کے لالچ اور دنیا کی حمد افسوس کہ قرون ثلاثہ کے بعد بعض مسلمانوں کے فرقوں کا یہ مذہب ہو گیا کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے محفوظ رہ کر آسمان پر زندہ چلے گئے اور ابتک وہیں زندہ مع جسم عنصری بیٹھے ہیں اُن پر موت نہیں آئی اور اس طرح پر ان نادان مسلمانوں نے عیسائی مذہب کو بڑی مدد دی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کی موت کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں حالانکہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں بتفریح ان کی موت کا ذکر ہے مثلاً آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی لے کیسی صاف تصریح سے ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ آیت مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ - حضرت عیسی کی حیات پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی ایسی سمجھ پر رونا آتا ہے۔ کیا جو شخص مصلوب نہیں ہوتا وہ مرتا نہیں ؟ میں نے بار بار بیان کیا ہے کہ قرآن شریف میں نفی صلیب اور رفع عیسی کا ذکر اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت عیسی کی حیات ثابت کرے بلکہ اس لئے یہ ذکر ہے کہ تا یہ ثابت کرے کہ میسی لعنتی موت سے نہیں مرا۔ اور مومنوں کی طرح اس کا رفع روحانی ہوا ہے اس میں یہود کا رڈ مقصود ہے کیونکہ وہ ان کے رفع ہونے کے منکر ہیں۔ منہ المائدة : ۲۱۱۸ النساء: ۱۵۸