حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 54

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴ حقيقة الوح عزیز خدا کا نام ہے وہ اپنی عزت کسی کو نہیں دیتا مگر انہیں کو جو اُس کی محبت میں کھوئے گئے ہیں ۔ ظاہر خدا کا نام ہے وہ اپنا ظہور کسی کو نہیں بخشتا مگر اُنہیں کو جو اُس کے لئے بمنزلہ اُس کی توحید اور تفرید کے ہیں اور ایسے اُس کی دوستی میں محو ہوئے ہیں جو اب بمنزلہ اُس کی صفات کے ہیں ۔ وہ ان کو نور دیتا ہے اپنے نور میں سے اور علم دیتا ہے اپنے علم میں سے تب وہ اپنے سارے دل اور ساری جان اور ساری محبت سے اُس یار یگانہ کی پرستش کرتے ہیں اور اُس کی رضا کو ایسا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ خود چاہتا ہے۔ انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پرستارا الہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اُس (۵۲) سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اُس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزش محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اُس کی ہستی کے آگے مردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اُسی کی درد میں لذت ہو اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اُس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔ اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے مگر یہ حالت بجز خدا تعالیٰ کی خاص مدد کے کیوں کر پیدا ہو۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لا یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو ۔ خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اُس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے ، خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اُسی پر تو کل کرے اور اُسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اُسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اُسی کی یاد کو سمجھے اور اگر ابراہیم کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنی عزیز اولاد کے ذبح کرنے کا حکم ہو یا اپنے تئیں آگ میں ڈالنے کے لئے اشارہ ہو تو ایسے سخت احکام کو بھی محبت کے جوش سے بجا لائے اور رضا جوئی اپنے آقائے کریم الفاتحة: ۵