حقیقةُ الوحی — Page 739
کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے کیا مرے دلدار تو آئے گا مَرجانے کے دن ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آ مرے اے ناخدا آگئے اِس باغ پر اَے یار مُرجھانے کے دِن تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ دیں میّت ہے اور یہ دن ہیں دفنانے کے دن اِک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں دل چلاہے ہاتھ سے لا جلد ٹھہرانے کے دِن میرے دل کی آگ نے آخر دکھایا کچھ اثر آگئے ہیں اب زمیں پرآگ بھڑکانے کے دن جب سے میرے ہوش غم سے دیں کے ہیں جاتے رہے طَور دنیا کے بھی بدلے ایسے دیوانے کے دِن چاند اورسُورج نے دکھلائے ہیں دو داغِ کسوف پھر زمیں بھی ہو گئی بے تاب تھرّانے کے دِن کون روتاہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا لرزہ آیا اِس زمیں پر اُس کے چلّانے کے دن صبر کی طاقت جو تھی مُجھ میں وہ پیارے اب نہیں میرے دلبر اب دکھا اِس دل کے بہلانے کے دن دوستو اُس یار نے دِیں کی مصیبت دیکھ لی آئیں گے اِس باغ کے اب جلد لہرانے کے دِن اِک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آئے کفرکو کھانے کے دِن دن بہت ہیں سخت اور خوف و خطر درپیش ہے پر یہی ہیں دوستو! اس یار کے پانے دن دیں کی نصرت کے لئے اِک آسماں پر شور ہے اب گیا وقتِ خزاںآئے ہیں پھل لانے کے دن چھوڑ دو وہ راگ جس کو آسماں گاتا نہیں اب تو ہیں اے دل کے اندھو! دیں کے گن گانے کے دن خدمتِ دیں کا تو کھو بیٹھے ہو بغض و کیں سے وقت اب نہ جائیں ہاتھ سے لوگو! یہ پچھتانے کے دن (مشتھرہ پیسہ اخبار۔۳۱؍مارچ ۱۹۰۶ء)