حقیقةُ الوحی — Page 41
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح کیونکہ قرآن شریف اُس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے۔ قَالَ أَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ - یعنی شیطان نے جناب الہی میں عرض کی کہ میں اُس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں جب تک کہ وہ مردے جن کے دل مرگئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں ۔ خدا نے کہا کہ میں نے تجھے اُس وقت تک مہلت دی۔ سو وہ دجال جس کا حدیثوں ﴿۳۹﴾ میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے اس لئے سورۃ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاریٰ کے شر سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔ اگر دجال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا وَلَا الظَّالِينَ یہ فرمانا چاہیے تھا کہ وَلَا الدَّجال اور آیت إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے مراد جسمانی بحث نہیں کیونکہ شیطان صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ بنی آدم زندہ ہیں۔ ہاں شیطان اپنے طور سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بذریعہ اپنے مظاہر کے کرتا ہے سو وہ مظاہر یہی انسان کو خدا بنانے والے ہیں اور چونکہ وہ گروہ ہے اس لئے اُس کا نام دجال رکھا گیا ہے کیونکہ عربی زبان میں دجال گروہ کو بھی کہتے ہیں اور اگر دجال کو نصرانیت کے گمراہ واعظوں سے الگ سمجھا جائے تو ایک محذور لازم آتا ہے وہ یہ کہ جن حدیثوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ آخری دنوں میں دجال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا انہیں حدیثوں سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ آخری دنوں میں کلیسیا کی طاقت تمام مذاہب پر غالب آجائے گی ۔ پس یہ تناقض بجز اس کے کیونکر دور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ علاوہ اس کے خدا تعالی جو عالم الغیب ہے نصرانیت کے فتنہ کی نسبت قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر دجال جو بقول ہمارے مخالفوں کے بڑے زور و شور سے خدائی کا دعوی کرے گا اور دنیا کے تمام فتوں سے اُس کا فتنہ بڑا ہوگا۔ اس کی نسبت قرآن شریف میں اتنا بھی ذکر نہیں کہ اس کے الاعراف : ۱۶،۱۵ الفاتحة :