حقیقةُ الوحی — Page 40
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح ہے بلکہ وہ صلیبی موت سے بچایا گیا اور مومنوں کی طرح اُس کا خدا کی طرف رفع ہوا اور جیسا کہ ہر ایک مومن ایک جلالی جسم خدا سے پا کر خدائے عزوجل کی طرف اُٹھایا جاتا ہے وہ بھی اُٹھائے گئے اور اُن نبیوں میں جا ملے جو اُن سے پہلے گزر چکے تھے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان سے سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ نے معراج سے واپس آکر بیان فرمایا کہ جیسے اور نبیوں کے مقدس اجسام دیکھے ویسا ہی حضرت عیسی کو بھی انہیں (۳۸) کے رنگ میں پایا اور اُن کے ساتھ پایا کوئی نرالا جسم نہیں دیکھا۔ پس یہ مسئلہ کیسا صاف اور صریح تھا کہ یہودیوں کا انکار محض رفع روحانی سے تھا کیونکہ وہی رفع ہے جو لعنت کے مفہوم کے برخلاف ہے مگر مسلمانوں نے محض اپنی نا واقفیت کی وجہ سے رفع روحانی کو رفع جسمانی بنا دیا۔ یہودیوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں کہ جو شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہ جاوے وہ مومن نہیں بلکہ وہ تو آج تک اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ جس کا رفع روحانی نہ ہو اور اس کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں وہ مومن نہیں ہوتا جیسا کہ قرآن شریف بھی فرماتا ہے لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ے یعنی کافروں کیلئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے مگر مومنوں کیلئے فرماتا ہے۔ مُفَتَعَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ۔ یعنی مومنوں کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے ۔ پس یہودیوں کا یہی جھگڑا تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کا فر ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف اُن کا رفع نہیں ہوا۔ یہودی اب تک زندہ ہیں مر تو نہیں گئے ۔ اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا کیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جاتا اور اُس کے جسم کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔ جہالت بھی ایک عجیب بلا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی نافہمی سے کہاں کی بات کہاں تک پہنچا دی اور ایک فوت شدہ انسان کے دوبارہ آنے کے منتظر ہو گئے حالانکہ ۱۲۰ ۱۲۰ حدیثوں میں حضرت عیسی کی عمر ایک سو بیس برس مقرر ہو چکی ہے۔ کیا وہ ایک سو بیس برس اب تک نہیں گذرے۔ ایسا ہی انہوں نے اپنی نامنہمی سے قرآن شریف اور احادیث میں تناقض پیدا کر دیا الاعراف : ۴۱ ۲ ص ۵۱