حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 39

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۹ حقيقة الوح اپنی شکل پر بنا دیا ہے۔ یہ کس قدر مجنونانہ تو ہمات ہیں۔ کیوں لكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ کے معنی یہ نہیں کرتے کہ حضرت عیسی صلیب پر فوت نہیں ہوئے مگر غشی کی حالت اُن پر طاری ہو گئی تھی بعد میں دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسی کے استعمال سے ( جو آج تک صد باطبی ۴۳۷ کتابوں میں موجود ہے جو حضرت عیسی کے لئے بنائی گئی تھی ) ان کے زخم بھی اچھے ہو گئے۔ پھر ایک اور بدقسمتی ہے کہ وہ ان آیتوں کے شان نزول کو نہیں دیکھتے ۔ قرآن شریف یہود و نصاری کے اختلافات دور کرنے کے لئے بطور حکم کے تھا تا اُن کے اختلافات کا فیصلہ کرے اور اُس کا فرض تھا کہ اُن کے متنازعہ فیہ امور کا فیصلہ کرتا پس منجملہ متنازعہ فیہ امور کے ایک یہ امر بھی متنازعہ فیہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ ہماری توریت میں لکھا ہے کہ جو کاٹھ پر لڑکا یا جاوے وہ لعنتی ہوتا ہے اُس کی روح مرنے کے بعد خدا کی طرف نہیں جاتی۔ پس چونکہ حضرت عیسیٰ صلیب پر مر گئے اس لئے وہ خدا کی طرف نہیں گئے اور آسمان کے دروازے اُن کے لئے نہیں کھولے گئے ۔ اور عیسائیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عیسائی تھے اپنا یہ عقیدہ مشہور کیا تھا چنانچہ آج تک وہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی صلیب پر جان دے کر لعنتی تو بن گئے مگر یہ لعنت اور وں کو نجات دینے کے لئے انہوں نے خود اپنے سر پر لے لی تھی اور آخر وہ نہ جسم عنصری کے ساتھ بلکہ ایک نئے اور ایک جلالی جسم کے ساتھ جو خون اور گوشت اور ہڈی اور زوال پذیر ہونے والے مادہ سے پاک تھا خدا کی طرف اُٹھائے گئے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ان دونوں متخاصمین کی نسبت یہ فیصلہ دیا کہ یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ عیسی کی صلیب پر جان نکلی یا وہ قتل ہوا تا اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ وہ ہمو جب حکم تو ریت لعنتی اگر آیة بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیہ کے یہ معنی ہیں کہ حضرت عیسی مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے گئے تو ہمیں کوئی دکھلائے کہ قرآن شریف میں وہ آیتہ کہاں ہے جو امر متنازعہ فیہ کا فیصلہ کرتی ہے یعنی جس میں یہ لکھا ہے کہ حضرت عیسی کا بعد موت مومنوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہوگا اور وہ کرنے کے بعد یحینی وغیرہ انبیاء کے ساتھ جا ملیں گے کیا نعوذ باللہ خدا کو یہ دھو کہ لگا کہ یہود کی طرف سے انکار تو تھا اُن کے رفع روحانی کا جو مومن کا بعد موت ہوتا ہے اور خدا نے کچھ اور کا اور سمجھ لیا۔ نعوذ بالله من هذا الافتراء على الله سبحان الله تبارک و تعالی - منه