حقیقةُ الوحی — Page 38
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۸ (۳۶) معنی کسی اور محل میں بھی یہ آئے ہیں کہ آسمان پر مع جسم عصری اُٹھا لینا اور کیا قرآن شریف میں اس کی کوئی نظیر ہے کہ جسم عنصری بھی آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے؟ اور اس آیت کے مشابه دوسری آیت بھی قرآن شریف میں موجود ہے اور وہ یہ کہ يَآيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَجِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً " پس کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اے نفس مطمئنہ مع جسم عنصری دوسرے آسمان پر چلا جا! اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بلعم باعور کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی طرف اُس کا رفع چاہا مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا کیا اس آیت کے بھی یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ بلعم باعور کو مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھانا چاہتا تھا مگر بلعم نے زمین پر رہنا ہی پسند کیا ۔ افسوس کس قدر قرآن شریف کی تحریف کی جاتی ہے ۔ یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ موجود ہے اِس سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ کسی شخص کا نہ مقتول ہونا نہ مصلوب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھایا گیا ہو۔ اگلی آیت میں صریح یہ لفظ موجود ہیں کہ لكِنْ شُبّه لَهُمْ کے یعنی یہودی قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے مگر اُن کو شبہ میں ڈالا گیا کہ ہم نے قتل کر دیا ہے۔ پس شبہ میں ڈالنے کے لئے اس بات کی کیا ضرورت تھی کہ کسی اور مومن کو مصلوب کر کے لعنتی بنایا جائے یا خود یہودیوں میں سے کسی کو حضرت عیسی کی شکل بنا کر صلیب پر چڑھایا جاوے کیونکہ اس صورت میں ایسا شخص اپنے تئیں حضرت عیسی کا دشمن ظاہر کر کے اور اپنے اہل وعیال کے پتے اور نشان دے کر ایک دم میں مخلصی حاصل کر سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ عیسی نے جادو سے مجھے یہ عجیب بات ہے کہ اسلام کے ائمہ ، تعبیر جہاں حضرت عیسی کی رویت کی تعبیر کرتے ہیں وہاں یہ لکھتے ہیں کہ جو شخص حضرت عیسی کو خواب میں دیکھے وہ کسی بلا سے نجات پا کر کسی اور ملک کی طرف چلا جائے گا اور ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف ہجرت کرے گا۔ یہ نہیں لکھتے کہ وہ آسمان پر چڑھ جائے گا۔ دیکھو کتاب تعطیر الا نام اور دوسرے ائمہ کی کتابیں پس منظمند پر حقیقت ظاہر ہونے کے لئے یہ بھی ایک پہلو ہے۔ منہ الفجر: ۲۸، ۲۹ ۲، ۳ النساء : ۱۵۸