حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 602 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 602

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۰۲ تتمه نرالی زندگی نہیں۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ آسمانی زندگی رکھتے ہیں اور سورہ نور کو غور سے پڑھو اُس میں یہی پاؤ گے کہ آنے والے خلیفے سب اسی اُمت میں سے ہیں اور جبکہ یہود اس اُمت میں سے بھی پیدا ہونے والے ہیں تو تم کیوں تعجب کرتے ہو کہ مسیح موعود بھی اسی اُمت میں سے ہو اور مجھے کب خواہش تھی کہ میں مسیح موعود بنتا اور اگر مجھے یہ خواہش ہوتی تو میں براہین احمدیہ میں اپنے پہلے اعتقاد کی بناء پر کیوں لکھتا کہ مسیح آسمان سے آئے گا حالانکہ اُسی براہین میں خدا نے میرا نام عیسی رکھا ہے۔ پس تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے پہلے اعتقاد کو نہیں چھوڑا تھا جب ۱۶۳ تک خدا نے روشن نشانوں اور کھلے کھلے الہاموں کے ساتھ نہیں چھڑایا۔ پس میں یقین کو چھوڑ کر تمہاری ظنی روایات کو کیونکر قبول کر سکتا ہوں اور بصیرت کو چھوڑ کرظنی ڈھکو سلے کیونکر اختیار کرسکتا ہوں جن کا باطل ہونا خدا نے میرے پر ظاہر کر دیا جیسا کہ یہودیوں کی روایات اور احادیث کا باطل ہو نا خدا نے حضرت عیسی اور آنحضرت پیر ظاہر کر دیا۔ پس وہ بصیرت جوز بر دست نشانوں کے ساتھ دی گئی ہے میں اس کو کیونکر چھوڑ سکتا ہوں ۔ خدا نے مجھ پر ظاہر کر دیا ہے کہ وہ کل روایتیں صحیح نہیں تھیں کچھ تو صحیح تھیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور کچھ رڈی اور موضوعات کا ذخیرہ تھا جس کا غلط ہونا کھل گیا اور کچھ احادیث صحیحہ کے سمجھنے میں غلطیاں تھیں اگر ایسا نہ ہوتا تو مسیح موعود کا نام حکم کیوں رکھا جاتا کیونکہ اگر مسیح موعود پر واجب ہے کہ وہ ظاہر ہو کر سب روایات کو مان لے تو پھر کن معنوں سے وہ حکم کہلا سکتا ہے۔ ہر ایک درخت اپنے پھلوں سے شناخت کیا جاتا ہے اور ہر ایک غلام کی عزت اُس کے آقا کی عنایات سے معلوم ہو سکتی ہے اور ہر ایک خوشبو اپنی شہادت آپ دیتی ہے۔ پس کیوں مجھ سے جلدی کرتے ہو اور کیوں زبان کی ناپاکی کو انتہا تک پہنچاتے ہو۔ صبر کرو اور تقویٰ سے کام لو۔ اگر میں صادق نہیں اور چوروں اور رہزنوں کی طرح ہوں تو کب تک یہ چوری اور رہزنی پیش جاسکتی ہے آنکه آید از خدا آید بدو نصرت دوان خدمت او می کند شمس و قمر چون چاکران صادقان را از خدا نورے عنایت می شود عشق آن یار ازل می تابد اندر روئے شان