حقیقةُ الوحی — Page 601
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۰۱ تتمه کا یہ طریق نہ ہوتا تو ایک نفس بھی یہودیوں اور عیسائیوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لا سکتا اور نہ کوئی یہودی حضرت عیسی کو قبول کر سکتا۔ بہت سے یہودی اس ملک میں رہتے ہیں ۔ اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ کیوں وہ لوگ حضرت عیسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے آخر وہ دیوانہ نہیں ہیں کوئی عذر تو اُن کے پاس ہے۔ پس تم یا درکھو کہ اُن کی طرف سے تم یہی جواب پاؤ گے کہ وہ علامتیں جو اُن کی احادیث اور روایتوں میں لکھی تھیں پوری نہیں ہوئیں اور اس طرح پر وہ اس ضد پر قائم رہ کر واصل جہنم ہو گئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ اب جبکہ ثابت ہوا کہ تمام قرار داده علامتوں کا پورا ہونا شرط ایمان قرار دینا جہنم کی راہ ہے جس کی وجہ سے کئی لاکھ یہودی واصل جہنم ہو چکے تو اس راہ کو تم کیوں اختیار کرتے ہو۔ مومن کو (۱۲۲) چاہیے کہ دوسرے کے حالات سے عبرت پکڑے کیا تم تعجب کرتے ہو کہ جس امتحان میں خدا تعالیٰ نے یہودیوں کو ڈالا تھا وہی امتحان تمہارا بھی کیا گیا ہو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا اَنْ تَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۔ یقیناً سمجھو کہ یہ کاروبار خدا کا ہے نہ انسان کا ۔ پس قبول کرنے میں سابقین میں داخل ہو جاؤ اور خدا سے مت لڑو کہ اُس نے ایسا کیوں کیا اور اگر تم تقویٰ کی نظر سے دیکھو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر تم نے مخالف روایات کو مضبوط پکڑ لیا ہے عقل اور انصاف تم پر یہ واجب نہیں کرتا کہ تم ضرور ایسا کرو کیونکہ وہ سب مجموعہ ظنیات ہے کہ جو احتمال کذب بھی رکھتا ہے اور قابل تاویل بھی ہے پس اپنی جانوں پر رحم کرو یقین کے پہلو کو کیوں چھوڑتے ہو ۔ کیا ظن یقین کے ساتھ برابر ہو سکتا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ وہ روایتیں صحیح نہ ہوں جن کو تم صحیح سمجھتے ہو یا اور معنی ہوں ۔ کیا وہ بلا جو یہودیوں کو تمام علامتوں پر ضد کرنے سے پیش آئی وہ تمہیں پیش نہیں آسکتی سو تم اُن کی لغزشوں سے فائدہ اُٹھالو۔ یا درکھو کہ قرآن کریم کی نصوص قطعیۃ الدلالت سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ زنده آسمان پر بیٹھے ہیں بلکہ اُن کی موت ثابت ہوتی ہے پس جس کو قرآن مارتا ہے اُس کو تم کیوں زندہ کہتے ہو۔ نبی آسمان پر زندہ تو ہیں مگر سب کی یکساں زندگی ہے عیسی کے لئے کوئی العنكبوت: