حقیقةُ الوحی — Page 600
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۰۰ تتمه ۔ کر رکھی تھیں۔ پس خدا سے ڈرو اور پہلے بدقسمت منکروں کی طرح خدا کے مرسل کو اس بنا پر رڈ مت کرو کہ تم نے اُس میں وہ تمام مقرر کردہ علامتیں نہ پائیں اور یقین یا درکھو کہ یہ بات کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی کہ اُن کی تمام مقرر کردہ علامتیں آنے والے نبی میں پائی جائیں اسی لئے انہوں نے ٹھوکریں کھائیں اور جہنم میں پڑے ورنہ تمام علامتیں پاکر پھر انکار کرنا انسان کی فطرت میں داخل نہیں۔ کوئی بات ٹھو کر کھانے کی ہوتی ہے جس سے بد قسمت انسان ٹھو کر کھاتا ہے۔ یہود کا گمان تھا کہ مسیح آنے والا ایک بادشاہ کی صورت میں آئے گا اور اس سے پہلے الیاس نبی دوباره آسمان سے نازل ہوگا ۔ پس اسی وجہ سے آج تک اُنہوں نے حضرت عیسی (11) کو قبول نہیں کیا کیونکہ نہ تو اُن سے پہلے الیاس نبی آسمان سے اترا اور نہ حضرت عیسی بادشاہ ہوئے کوشش تو کی گئی مگر اُس میں ناکام رہے اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہودیوں کے عالموں بلکہ اُن کے تمام نبیوں نے بھی یہی سمجھ رکھا تھا کہ وہ آخر الزمان نبی بنی اسرائیل میں سے پیدا ہو گا مگر ایسا ظہور میں نہ آیا بلکہ وہ نبی بنی اسماعیل میں سے پیدا ہو گیا۔ تب لاکھوں یہودی دولت قبول سے محروم رہ گئے ۔ اگر خدا چاہتا تو ایسی صراحت سے علامتیں بیان کر دیتا کہ یہودی ٹھو کر نہ کھاتے مگر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ صراحت نہیں کی گئی تو پھر اور کس کے لئے کی جاتی۔ پس یا د رکھو کہ ایسی پیشگوئیوں میں امتحان بھی مقصود ہوتا ہے۔ جو لوگ عقل سلیم رکھتے ہیں وہ اس امتحان کے وقت تباہ نہیں ہوتے اور روایات کو صرف ایک ظنی ذخیرہ خیال کر لیتے ہیں اور یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ اگر کوئی روایت یا حدیث صحیح بھی ہو تب بھی اس کے معنی کرنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔ پس وہ تمام مدار شناخت کا خدا کی نصرت اور خدا کی تائید اور خدا کے نشانوں اور شہادتوں کو قرار دیتے ہیں اور جس قدر علامتیں روایتوں کے ذریعہ سے میسر آگئی ہیں اُن کو کافی سمجھتے ہیں اور باقی روایتوں کو ایک رڈی متاع کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ یہی طریق سعید فطرت یہودیوں نے اختیار کیا تھا جو مسلمان ہو گئے تھے اور یہی طریق ہمیشہ سے راست بازوں کا چلا آیا ہے اور اگر راست بازوں اور خدا ترسوں