حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 599 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 599

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۹ تتمه ببین مرد میدان باش و حال ما ہیں نصرت آن ذوالجلال ما طعنہ ہا بے امتحان نامردی است امتحان کن پس مال ما ببین اے عزیز عباد الرحمن کی نسبت جلدی سے بدظنی کرنا جائز نہیں۔ جن لوگوں نے پہلے برگزیدوں کی نسبت بدظنیاں کیں انہوں نے کیا پھل پایا۔ اور یہ خیال بھی اپنے دلوں میں سے نکال دو کہ جب تک وہ تمام علامتیں مسیح موعود اور مہدی معہود کی ( جوصرف ظنی روایات کی بناء پر تمہارے دلوں میں ہیں ) پوری نہ ہو لیں تب تک قبول کرنا ہر گز روا نہیں۔ یہ قول اُن یہودیوں کے قول سے مشابہ ہے جنہوں نے نہ حضرت عیسی کو قبول کیا اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکہ جو کچھ اپنی روایتوں کی بناء پر نشانیاں قرار دی تھیں وہ سب پوری نہ ہوئیں۔ پس کیا تم گمان کرتے ہو کہ وہ تمہاری قرار دادهہ علامتیں پوری ہو جائیں گی۔ نہیں بلکہ ایسی پیشگوئیوں میں ایک امتحان بھی مخفی ہوتا ہے اور خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اُسکے نشانوں کو عزت کی نگہ سے دیکھتے ہو یا نہیں ۔ تمام روایات کب کچی ہوسکتی ہیں بہت سی جھوٹی باتیں مل جاتی ہیں اُن پر پورا تکیہ کر نا خطرناک امر ہے۔ یہ تو بتلاؤ کہ کسی نبی کی نسبت مقرر کردہ علامات پوری ہو گئیں جو پہلی قوم نے مقرر ۲۰۵ منه بقیه حاشیه : کتاب بجلی آسمانی کے صفحہ ۷۔ میں یہ چند شعر لکھتے ہیں۔ مرزا مو یا خوشیوں مینوں راتیں نیند نہ آئی مرزا گذر گیا۔ مرزا مویا بے شک جانو میں ہن نصرت پائی مرزا گذر گیا یعنی بے شک مرزا مر جاوے گا اور مجھے فتح ہوگی اور پھر صفحہ ۱۰۷ کے شعر میں لکھتا ہے کہ طاعون کے پھیلنے کی خبر مرزا نے دی تھی وہ بھی ظہور میں نہ آئی مگر مولوی صاحب کو معلوم نہ تھا کہ خود طاعون سے مریں گے ۔ قدرت الہی ہے کہ انہیں پر بجلی آسمانی گری۔ ھم ہم ان نشانوں کو دو سو پانچ پر ختم کر چکے تھے کہ ایک اور رسالہ ہمیں دستیاب ہوا جس نے ان نشانوں کو دوستو کچھ تک پہنچا دیا۔ اس رسالہ کا نام ڈرہ محمدی ہے اور مصنف کا نام امداد علی ہے۔ اس شخص نے اپنی کتاب کے صفحہ سات میں میری نسبت شعرلکھا ہے۔ اللہ جیسے پیغمبر تائیں جلد بجلد سمہا لے جس کا ذب نے دنیا اندر بہتیرے چلے چالے یعنی اس شخص کو خدا جلدی موت دے۔ پھر صفحہ ۸ میں میری نسبت لعنۃ اللہ علی الکاذبین لکھتا ہے اور دوسرا حصہ کتاب کے بنانے کا وعدہ کرتا ہے اور ابھی دوسرے حصہ کی نوبت نہیں آئی کہ طاعون میں پکڑا گیا اور اپنا گوشت اپنے دانتوں سے کاٹتا تھا۔ آخر اسی حالت میں مر گیا۔ یہ ہیں مولوی صاحبان جو مجھے جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار - منه