حقیقةُ الوحی — Page 598
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۸ تتمه ۔ نشان نمبر ۲۰۵۔ پھر ایک اور شخص ابوالحسن ناظم نے میرے رد میں ایک کتاب بنائی تھی جس کا نام ہے بجلی آسمانی بر سر و جال قادیانی جس کے کئی مقامات میں کا ذب کی موت کے لئے بد دعا ہے بلکہ فرضی طور پر میری وفات کا وقوع ذکر کر کے پنجابی زبان میں ایک سیا پا لکھا ہے گویا میں مر گیا ہوں اور وہ مولوی میرا سیا پا میری موت کے بعد کرتا ہے آخر نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی مذکور اس کتاب کے شائع کرنے کے بعد خود طاعون سے مر گیا ۔ پھر ایک اور شخص ابوالحسن عبد الکریم نام نے دوبارہ اس کتاب کو چھپوایا وہ بھی حال کے طاعون کے دنوں میں طاعون کا شکار ہو گیا۔ تعجب کہ باوجود ان تمام نشانوں کے کوئی سوچتا نہیں کہ جس شخص کے شامل حال اس قدر نصرت الہی ہے وہ کیونکر کا ذب ہو سکتا ہے۔ اے پڑھنے والے اس کتاب کے خدا سے ڈر اور ایک دفعہ اوّل سے آخر تک اس کتاب کو دیکھ اور اس قادر مطلق سے درخواست کر کہ وہ تیرے دل کو سچائی کے لئے کھول دے ۱۲۰ی اور خدا کی رحمت سے نومیدمت ہو۔ اس شخص کا نام محمد جان ہے المعروف مولوی محمد ابوالحسن مؤلف شرح صحیح بخاری المعروف به فیض الباری ساکن پنج گرائیں تحصیل پسر ورضلع سیالکوٹ اس ضلع میں یہ ایک مشہور مولوی تھاوہ اپنی کتاب بجلی آسمانی کے صفحہ نمبر ۳ سطر ۱۷ اور سطر ۱۸ کے شعر میں لکھتا ہے کہ میں دعا کرتا ہوں کہ مرزا کی خدا بیخ کنی کرے اور اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے اور وہ مرجائے ۔ اور پھر اس کتاب کے صفحہ ۱۰۰ سطر ۱۵ میں دوسرے حصہ اس کتاب (یعنی بجلی ) آسمانی کا وعدہ کر کے یہ شعر میری نسبت لکھا ہے۔ نبیاں تائیں اس منبتی لا ئیاں بڑیاں سلاں۔ دوجے حصے اندر دیکھیں میریاں اسدیاں گلاں ۔ ابھی اس بدقسمت مولوی نے دوسرا حصہ اپنی کتاب بجلی آسانی کا تیار نہیں کیا تھا کہ طاعون کی بجلی اس پر پڑ گئی۔ انیس دن تک نہایت جان کندنی کی حالت میں رہا آخر بڑے دُکھ کے بعد جان دی اور پھر صفحہ ۱۰۰ اسطر 19 میں یہ مولوی صاحب میری نسبت یہ پیشگوئی کرتے ہیں۔ تو بہ کر جلدی اے محمد موت نیڑے ہے آئی۔ اج کل مرد نیا توں غافل ہونا ہے توں راہی۔ یعنی جلدی تو بہ کر کہ تیری موت نزدیک آگئی ہے اور اے غافل آج کل ہی تو مر جائے گا اور دنیا سے سفر کرے گا۔ شاید یہ مولوی صاحب کا الہام ہے یا خواب مگر عرصہ دو سال کا گذرا ہے کہ یہ مولوی صاحب آپ ہی طاعون سے مر گئے اور دیکھنے والوں نے بیان کیا ہے کہ انیس دن تک پلیگ ۱۲۰ میں مبتلا رہ کر چیخیں مارتے رہے اور نہایت دردناک حالت میں جان دی اور پھر یہ مولوی صاحب پیشگوئی کے طور پر اسی