حقیقةُ الوحی — Page 596
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۶ تتمه نشان نمبر ۲۰۲۔ میرے ایک دوست سید ناصر شاہ اور سیٹر اس گردش اور تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے کہ وہ گلگت میں تبدیل کئے گئے تھے اور وہ سفر شدید اور تکالیف شاقہ کا حمل نہیں کر سکتے تھے آخر وہ رخصت لے کر دعا کرانے کے لئے میرے پاس آئے نا وہ جموں میں متعین ہوں اور گلگت میں نہ جائیں اور یہ امر بظاہر محال تھا کیونکہ گلگت میں اُن کی تبدیلی ہو چکی تھی اس لئے وہ نہایت مضطرب تھے۔ میں نے ایک رات اُن کے لئے اور نیز کئی اور دعائیں کیں اور شوکت اسلام کے لئے بھی دعا کی اور نماز تہجد میں دعائیں کرتا رہا تب تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ خدا نے مجھے خبر دی کہ تمام دعائیں قبول ہو گئیں جن میں قوت اور شوکت اسلام بھی ہے۔ اس پیرایہ میں مجھے اطلاع دی گئی کہ سید ناصر شاہ کی تبدیلی ملتوی کی گئی۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ خدا نے اُن کے بارے میں میری دعا قبول کی اور نیز اس وجہ سے بھی خوشی ہوئی کہ خدا کے فضل اور رحمت کے ۱۵۸ بڑے نشان یہ ہیں کہ وہ دعا قبول کرے۔ فی الفور میں نے اُن کو اطلاع دے دی کہ تمہاری نسبت میری دعا قبول ہو گئی۔ پھر بعد اس کے شاید تیسرے دن یا چوتھے دن ریاست کے کسی اہل کار کا اُن کو خط آ گیا کہ آپ کی تبدیلی ملتوی کی گئی تب وہ چند روز بعد مجھ سے رخصت ہو کر جموں چلے گئے اور جموں میں جا کر انہوں نے وہ خط بھیجا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔ بحضور اقدس حضرت پیر و مرشد مسیح موعود و مہدی معہود دام ظلّکم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ حضور والا کی خدمت میں میں مبارک باد عرض کرتا ہوں کہ خاکسار کی تعیناتی خاص جموں نمبر اول سب ڈویژن میں ہوگئی ہے احکامات جاری ہو گئے ہیں۔ اور اب یہ خاکسار گلگت نہیں جائے گا۔ الحمد للہ رب العالمین کہ حضور والا کی دعائیں خداوند کریم نے قبول فرما ئیں اور حضور کی دعا کے طفیل سے اللہ تعالیٰ نے دور دراز سفر سے اس عاجز کو نجات بخشی۔ جناب عالی یہ خاکسار کے لئے بڑا معجزہ ظہور میں آیا ہے۔ میرے پیارے مسیح اور مہدی میری جان و مال آپ پر قربان ہو۔ مجھے زیادہ تر یہ خوشی حاصل ہوئی کہ حضور والا کا وہ الہام