حقیقةُ الوحی — Page 591
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۱ تتمه حقي اصلیت طشت از بام کرنے کا ذمہ اٹھانے والا ایک ہی پر چہ شجھ چنک ہے۔ مرزا قادیانی بداخلاق ۔ شہرت کا خواہاں ۔ شکم پرور ہے۔ اور پھر پر چہ ۲ مئی ۱۹۰۶ ء میں میری نسبت لکھتا ہے۔ کمبخت کمانے سے عاررکھنے والا ۔ مگر اور فریب اور جھوٹ میں مشاق ۔ اور پھر پر چہ ۲۲ / دسمبر ۱۹۰۶ء میں لکھتا ہے ہم ان کی چالاکیوں کو ضرور طشت از بام کریں گے اور ہمیں امید بھی ہے کہ ہم اپنے ارادہ میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اور پر چہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۰۶ء میں لکھا ہے مرزا مکار اور جھوٹ بولنے والا ہے مرزا کی جماعت کے لوگ بد چلن اور بدمعاش ہیں۔ غرض ہر ایک پر چہ اُن کا نا پاک گالیوں سے بھرا ہوا (۱۵۳) نکلتا رہا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ جناب الہی میں دعائیں کیں کہ خدا اس اخبار کے کارکنوں کو نا بود کر کے اس فتنہ کو درمیان سے اٹھا دے چنانچہ کئی مرتبہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ ان کی بیخ کنی کرے گا۔ زیادہ تر میرے پر ناگوار یہ امر تھا کہ چونکہ یہ لوگ قادیان میں رہتے تھے اس لئے ان کے قرب مکانی کی وجہ سے ان کے جھوٹ کو بطور سچ کے دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی اپنے اخبار یکم مارچ ۱۹۰۷ ء میں محض دھوکا دینے کے لئے یہ شائع کیا ہے کہ ”ہم نے ۔۔۔ پندرہ سال تک متواتر پہلو بہ پہلو ایک ہی قصبہ میں اُن کے ساتھ رہ کر اُن کے حال پر غور کی تو اتنی غور کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوا کہ یہ شخص در حقیقت مکار خود غرض عشرت پسند ، بد زبان وغیرہ وغیرہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ پندرہ سال کی ہمسائیگی کا دعوی کر کے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص در حقیقت مکار اور مفتری ہے ایسے لوگوں کی گواہی کا کس قدر دلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پھر اسی پر چہ میں لکھا ہے کہ نشان تو ہم نے اس مدت تک کوئی نہیں دیکھا البتہ یہ دیکھا ہے کہ یہ شخص ہر روز جھوٹے الہام بناتا ہے ایک لاثانی بیوقوف ہے۔ پس یہی باعث تھا کہ مجھے ان لوگوں کے حق میں بد دعائیں کرنی پڑیں۔ آخر میں نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام ہے قادیان کے آریہ اور ہم۔اس رسالہ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ قادیان کے دو آریہ جن میں سے ایک کا نام شرمیت اور دوسرے کام نام ہے ملا وامل یہ