حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 590 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 590

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۰ تتمه مگر جو وجو دلوگوں کے لئے مفید ہے میں اُس کو دیر تک رکھوں گا۔ تجھے ایسا غلبہ دیا جائے گا جس کی تعریف ہوگی اور کا ذب کا خدا دشمن ہے اُس کو جہنم میں پہنچائے گا۔ ایک موسیٰ ہے میں اُس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دوں گا لیکن جس نے میرا گناہ کیا ہے میں اُس کو گھسیٹوں گا اور اُس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔ میرا دشمن ہلاک ہو گیا اور اب معاملہ اُس کا خدا سے جا پڑا یعنی ہلاک ہو جائے گا۔ اے چاند اور اے سورج تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے عنقریب خدا تجھے وہ انعام دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔ یہ وہ الہامات ہیں جو عصائے موسیٰ کے الہامات شائع ہونے کے بعد مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس چھ برس کی مدت میں ہوئے جب سے کتاب عصائے موسیٰ تصنیف ہو کر شائع ۱۵۲ ہوئی ہے ۔ اسی وقت سے یہ الہامات شروع ہوئے اور یہ سب الہامات بابو صاحب کی موت سے پہلے کے ہیں ۔ اب ناظرین عصائے موسیٰ کے الہامات اور اُن الہامات کا مقابلہ کر کے خود ہی بتلاویں کہ انجام کار یہ الہامات بچے ہوئے یا با بو الہی بخش صاحب کے الہام سچے ہوئے۔ ایک منصف کے لئے تو یہ مقابلہ کافی ہے۔ اسی سے سچا جھوٹا معلوم ہو جاتا ہے اور اگر نیت میں صفائی نہیں تو ایسے شخص کا فیصلہ خدا تعالیٰ خود کرے گا۔ نشان نمبر ۱۹۹ ۲۰۰ و ۲۰۔ قادیان کے آریوں نے محض مجھے دکھ دینے اور بد زبانی کرنے کے لئے ایک اخبار قادیان میں نکالا تھا جس کا نام شجھ چنک رکھا تھا اور ایڈیٹر اور منتظم اس کے تین آدمی تھے۔ ایک کا نام سومراج، دوسرے کا نام اچھر چند ، تیسرے کا نام بھگت رام تھا۔ ان تینوں کی موت سے خدا کے تین نشان ظاہر ہوئے یہ تینوں نہایت درجہ موڈی اور ظالم تھے۔ جس شخص نے اُن کے اخبار شجھ چٹک کے چند پرچے دیکھے ہوں گے وہ اس بات کا اقرار کرے گا کہ یہ تمام پرچے بدزبانی اور گند اور افترا سے بھرے ہوئے ہیں چنانچہ اخبار مذکور کے پرچہ ۲۲ اپریل ۱۹۰۶ء میں میری نسبت لکھا ہے کہ یہ شخص خود پرست ہے نفس پرست ہے، فاسق ہے، فاجر ہے اس واسطے گندی اور نا پاک خوا ہیں اس کو آتی ہیں۔ پھر پر چہ ۵ ارمئی ۱۹۰۶ء میں لکھا ہے۔ قادیانی مسیح کے الہاموں اور اس کی پیشگوئیوں کی