حقیقةُ الوحی — Page 578
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۷۸ تتمه ۱۴۰ کر سکتے ہیں جب تک کہ اس کے ساتھ خدا کی فعلی شہادت زبر دست نہ ہو۔ ایک خدا کا قول ہے اور ایک خدا کا فعل ہے اور جب تک خدا کے قول پر خدا کا فعل شہادت نہ دے ایسا الہام شیطانی کہلائے گا اور شہادت سے مراد ایسے آسمانی نشان ہیں کہ جو انسانوں کی معمولی حالتوں سے بہت بڑھ کر ہیں ورنہ یہ امر نشان میں داخل نہیں ہوسکتا کہ کسی کو اتفاقی طور پر کوئی سچی خواب آجاوے یا شاذ و نادر کے طور پر کبھی کوئی سچا الہام ہو جاوے کیونکہ یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمام مخلوقات کو بطور پیج کے دیا گیا ہے بلکہ نشان سے مراد وہ کثیر التعدادنشان ہیں جو بارش کی طرح برس کر اور بے مثل کے درجہ تک پہنچ کر خدا کے قول پر قطعی اور یقینی گواہی دے دیں کہ وہ خدا کا قول ہے نہ انسان کا کیونکہ چند معمولی خوابوں یا چند معمولی الہاموں پر بھروسہ کر کے جو تمام دنیا کو ہوا کرتے ہیں یہ دعویٰ پیش کر دینا کہ میں خدا کی طرف سے ملہم ہوں اس سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں اور خدا تعالیٰ پر یہ الزام نہیں آسکتا کہ الہام دے کر کیوں اُس نے نامرادی سے ہلاک کیا بلکہ یہ الزام خود اسی نادان پر آتا ہے جس نے حدیث النفس کو الہام سمجھ لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب آپ پر فرشتہ جبرائیل ظاہر ہوا تو آپ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے بلکہ حضرت خدیجہ کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ خشیت علی نفسی یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو لیکن جو لوگ بغیر تزکیہ نفس کے جلدی سے ولی بننے کی خواہش کرتے ہیں وہ جلدی سے شیطان کے فریب میں آجاتے ہیں۔ پس سوچنا چاہیے کہ اگر بابو صاحب کے الہامات شیطانی الہام نہیں تو خدا کے زبر دست افعال نے ان کی کیوں گواہی نہ دی۔ افسوس وہ خود تو مر گئے مگر سخت ذلت اور رسوائی کا ٹیکا اپنے رفیقوں کے منہ پر لگا گئے اور اسی طرح بابو صاحب سے پہلے ہزاروں انسان ایسے الہاموں سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ افسوس دنیا کے لوگ سونے کو تو پر کھ لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کھوٹا نکلے مگر اپنے الہاموں کو نہیں پر کھتے کہ آیا خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے۔ پھر خدا تعالیٰ کا کیا قصور ہے۔ جو شخص بغیر شہادت فعل الہی کے صرف قول پر نازاں ہوگا یہی ذلت اُس کو ضرور ایک دن دیکھنی