حقیقةُ الوحی — Page 569
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۹ تتمه ۔ بھلا میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتا اور آپ وحی کے ذریعہ سے فرماتے کہ فلاں شخص جس پر عذاب نازل ہونا تھا پوشیدہ طور پر اپنی شوخیوں سے باز آ گیا ہے تو پھر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو یہ لوگ قبول کرتے یا رد کر دیتے۔ اور اگر قبول نہ کرتے تو پھر کیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ٹھہرتے یا نہ ٹھیرتے ؟ پس جس حالت میں خدا تعالیٰ نے آتھم کے لئے یہ شرط مقرر کر دی تھی اور اس نے مجھے اپنی وحی (۱۳۲) کے رو سے بتلا دیا تھا کہ آتھم اپنی شرارت اور شوخی پر قائم نہیں رہا۔ پس تقویٰ کا حق یہ تھا کہ اس بحث کو لپیٹ کر رکھ دیتے اور حسن ظن سے کام لیتے اور دل میں سوچتے کہ شاید یہی امر صحیح ہو۔ پھر جس حالت میں محض خدا کی وحی نے مجھے یہ اطلاع نہیں دی بلکہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں خود آتھم نے بھی ایسے ہی آثار ظاہر کئے تو ہر ایک پر ہیز گار انسان کے یہی لائق تھا۔ کہ اس میں دم نہ مارتا اور خدا سے ڈرتا۔ رہا معاملہ احمد بیگ کے داماد کا۔ سو ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ وہ پیشگوئی دوشاخوں پر مشتمل تھی ۔ ایک شاخ احمد بیگ کی موت کے متعلق تھی ۔ دوسری شاخ اُس کے داماد کی موت کے متعلق تھی اور پیشگوئی شرطی تھی ۔ سواحمد بیگ بوجہ نہ پورا کرنے شرط کے میعاد کے اندر مر گیا اور اُس کے داماد نے اور ایسا ہی اُس کے عزیزوں نے شرط پورا کرنے سے اس کا فائدہ اُٹھا لیا۔ یہ تو لازمی امر تھا کہ احمد بیگ کی موت سے ان کے دلوں میں خوف پیدا ہو جاتا۔ کیونکہ پیشگوئی میں دونوں شریک تھے اور جب دو شریکوں میں سے ایک پر موت وارد ہو گئی تو بقیہ حاشیہ۔ دو ہزار آدمی بذریعہ طاعون ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ پس ہمارے لئے طاعون ۱۵ رحمت ہے اور ہمارے مخالفوں کے لئے زحمت اور عذاب ہے اور اگر دس پندرہا سال تک ملک میں ایسی ہی طاعون رہی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو گھٹاتی جاتی ہے۔ اور اگر اس کے برخلاف ثابت ہو تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسے ثابت کنندہ کو میں ہزار روپیہ نقد دینے کو تیار ہوں ۔ کون ہے کہ اس مقابلہ کے لئے کھڑا ہو وے اور ہم سے ہزار روپیہ لیوے؟ افسوس کہ یہ مخالف لوگ ایسے اندھے ہو گئے ہیں ۱۳۳