حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 33

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳ حقيقة الوح میں یہ باتیں کسی قیاس اور ظن سے نہیں کہتا بلکہ میں خدا تعالیٰ سے وحی پا کر کہتا ہوں (۳۱) اور میں اُس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اُسی نے مجھے یہ اطلاع دی ہے۔ وقت میری گواہی دیتا ہے۔خدا کے نشان میری گواہی دیتے ہیں۔ ماسوا اس کے جبکہ قرآن شریف سے قطعی طور پر حضرت عیسی کا وفات پا جانا ثابت ہے تو پھر اُن کے دوبارہ آنے کا خیال بدیہی البطلان ہے کیونکہ جوشخص آسمان پر مع جسم عنصری زندہ موجود ہی نہیں وہ کیونکر زمین پر دوبارہ آسکتا ہے۔ اگر کہو کہ کن آیات قرآن شریف سے قطعی طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے تو میں نمونہ کے طور پر اس آیت کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں جو قرآن شریف میں ہے یعنی یہ کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ الخ اس جگہ اگر توفی کے معنی مع جسم عصری آسمان پر اُٹھا نا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں کیونکہ قرآن شریف کی انہی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسی سے قیامت کے دن ہوگا۔ پس اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ موت سے پہلے اس رفع جسمانی کی حالت میں ہی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں گے اور پھر کبھی نہیں مریں گے کیونکہ قیامت کے بعد موت نہیں اور ایسا خیال بہداہت باطل ہے۔ علاوہ اس کے قیامت کے دن یہ جواب اُن کا کہ اُس روز سے کہ میں مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھایا گیا مجھے معلوم نہیں کہ میرے بعد میری اُمت کا کیا حال ہوا۔ یہ اس عقیدہ کی رو سے صریح دروغ بے فروغ ٹھیرتا ہے جبکہ یہ تجویز کیا جائے کہ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے کیونکہ جو شخص دوبارہ دنیا میں آوے اور اپنی اُمت کی مشرکانہ حالت کو دیکھ لے بلکہ اُن سے لڑائیاں کرے اور اُن کی صلیب تو ڑے اور اُن کے خنزیر کو قتل کرے وہ کیونکر قیامت کے روز کہہ سکتا ہے کہ مجھے اپنی امت کی کچھ بھی خبر نہیں۔ اور خود یہ دعویٰ کہ توفی کا لفظ جب حضرت عیسی کی نسبت قرآن شریف میں آتا ہے المائدة : ١١٨