حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 560 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 560

۱۲۴ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۰ تتمه کی طرح اُس کی تائید میں برس رہے ہیں اُن کی بھی پروا نہیں رکھتا ۔ کیا ایسے شخص کے لئے بھی کوئی سزا ہے یا نہیں مگر اب ان باتوں کو طول دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب بابو صاحب اپنے مباہلہ اور ملاعنہ کے بعد اس افترا اور بد زبانی کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔ پھر بابو صاحب کا ایک اور الہام ہے جو ان کی کتاب کے صفحہ ۲۲۴ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ ان يقولون الا كذبا اتبع هواه وكان امرہ فرطا یعنی جو دعوی یہ شخص کرتا ہے اُس کا جھوٹا دعوی ہے اور اپنی خواہش نفسانی کے پیچھے چلتا ہے اور وہ حد سے بڑھ گیا ہے یعنی اب اُس کی ہلاکت کے دن آگئے ہیں۔ اس الہام کا جواب بھی پڑھنے والے خود بخود ہی سمجھ لیں ۔ مگر اب بابو صاحب کے حمایتی فرما دیں کہ خدا تعالیٰ کا وہ معاملہ جو وہ اپنی قدیم سنت کے موافق جھوٹوں سے کیا کرتا ہے وہ میرے ساتھ اُس نے کیا یا با بو صاحب کے ساتھ ؟ بموجب تعلیم قرآن شریف کے جو منجانب اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ نامراد رہ کر ہلاک ہوتا ہے سو کیا یہ سچ نہیں کہ یہی انجام با بوصاحب کا ہوا ؟ پھر با بوصاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۳۱۹ میں میری نسبت یہ الہام لکھتے ہیں سینالهم غضب على غضب جعلته كالرميم - كالعهن المنفوش یعنی اُس شخص پر غضب پر غضب نازل ہوگا اور میں بوسیدہ ہڈی کی طرح اُس کو کر دوں گا اور اُس روئی کی طرح جو دھنی جاتی ہے۔ اس الہام کو بھی ناظرین آپ ہی سوچ لیں کہ یہ کس پر صادق آیا۔ پھر صفحہ ۴۳۷ میں میری نسبت یا الہام ہے ثم اماتہ فاقبرہ یعنی خدا اُس کو مارے گا پھر قبر میں ڈالے گا۔ اور پھر کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۴۴۱ میں بابو صاحب کا یہ الہام میری نسبت ہے يميز الخبيث من الطيب جعلناه هباءً منثورا - سلام عليكم كتب على نفسه الرحمة جس کا ظہور انشاء اللہ وقت مقدر پر ہو گا یعنی اللہ تعالیٰ خبیث کو طیب سے جدا کر کے دکھلاوے گا یعنی کوئی ایسا کرشمہ قدرت دکھلائے گا کہ ثابت ہو جائے گا کہ صادق کون ہے