حقیقةُ الوحی — Page 544
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۴ تتمه (۱۰۸) اور یہ کہے کہ کوئی نبی گذشتہ نبیوں میں سے طاعون سے بھی ہلاک ہوا تھا تو یہ اُس کا اختیار ہے۔ کسی بے باک یا گستاخ کی ہم زبان تو بند نہیں کر سکتے مگر کتاب اللہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ طاعون رجز ہے ہمیشہ کافروں پر نازل ہوتی ہے۔ ہاں جیسا کہ جہنم خاص کافروں کے لئے مخصوص ہے تاہم بعض گنہ گار مومن جو جہنم میں ڈالے جائیں گے وہ محض تمحیص اور تطهیر اور پاک کرنے کے لئے دوزخ میں ڈالے جائیں گے مگر خدا کے وعدہ کے موافق جو اوليك عَنْهَا مُبْعَدُونَ بے برگزیدہ لوگ اس دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔ اسی طرح طاعون بھی ایک جہنم ہے کافر اس میں عذاب دینے کے لئے ڈالے جاتے ہیں۔ اور ایسے مومن جن کو معصوم نہیں کہہ سکتے اور معاصی سے پاک نہیں ہیں اُن کے لئے یہ طاعون پاک کرنے کا ذریعہ ہے جس کو خدا نے جہنم کے نام سے پکارا ہے۔ سو طاعون ادنی مومنوں کے لئے تجویز ہو سکتی ہے جو پاک ہونے کے محتاج ہیں مگر وہ لوگ جو خدا کے قرب اور محبت میں بلند مقامات پر ہیں وہ ہرگز اس جہنم میں داخل نہیں ہو سکتے ۔ پھر تعجب کہ وہ شخص کہ جو اپنا الہام یہ پیش کرتا ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر جس الہام کا منشی عبد الحق بھی گواہ ہے اور کئی اور لوگ گواہ ہیں پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایسا شخص جو خدا کے بعد وہی بزرگ ہے اور وہی اس زمانہ کا موسیٰ ہے وہ خدا کے قہری عذاب سے جو طاعون ہے ہلاک ہو جائے۔ کیا کوئی منظمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے؟ اور اگر کوئی یہ کہے کہ بابو الہی بخش طاعون سے فوت نہیں ہوا تو ہم اس کا بجز اس کے کیا جواب دیں کہ لعنة الله على الكاذبين - خطوط آمدہ لاہور سے معلوم ہوا کہ الہی بخش، یعقوب ولد محمد اسحاق کے جنازہ پر گیا اور یعقوب طاعون کے ساتھ مرا تھا پس الہی بخش اُسی جگہ سے طاعون خرید لایا۔ اور پیسہ اخبار مورخہ ۱۰ را پریل میں یہ عبارت ہے۔ انتقال پر ملال۔ افسوس ہے کہ مولوی الہی بخش صاحب پنشنزرا کو ٹٹ نے بروز دوشنبہ تر اپریل کو صرف ایک روز بخار میں مبتلا رہ کر بر مکان مولوی عبدالحق صاحب انتقال کیا۔ اب ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ ان دنوں میں کس شدت سے لاہور میں طاعون پھیلی ہوئی تھی اور اب تک ہے اور ہزاروں انسان ہے یہ تاریخ اخبار میں صحیح نہیں درج ہوئی بلکہ ےر تاریخ 4 بجے شام کا یہ واقعہ ہے۔ منہ الانبياء : ١٠٢