حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 536 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 536

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۳۶ تتمه پس یہ نئی حیات کامل معرفت اور کامل محبت سے ملتی ہے اور کامل معرفت خدا کے فوق العادت نشانوں سے حاصل ہوتی ہے اور جب انسان اس حد تک پہنچ جاتا ہے تب اُس کو خدا کا سچا مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوتا ہے۔ مگر یہ علامت بھی بغیر تیسرے درجہ کی علامت کے قابل اطمینان نہیں کیونکہ کامل تزکیہ ایک امر پوشیدہ ہے اس لئے ہر ایک فضول گو ایسا دعوی کر سکتا ہے۔ تیسری علامت ملہم صادق کی یہ ہے کہ جس کلام کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے خدا کے متواتر افعال اُس پر گواہی دیں یعنی اس قدر اس کی تائید میں نشانات ظاہر ہوں کہ عقلِ سلیم اس بات کو ممتنع سمجھے کہ باوجود اس قدر نشانوں کے پھر بھی وہ خدا کا کلام نہیں اور یہ علامت درحقیقت تمام علامتوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایک کلام جو کسی کی زبان پر جاری ہو یا کسی نے بادعائے الہام پیش کیا ہو وہ اپنے معنوں کی رو سے قرآن شریف کے بیان سے مخالف نہ ہو بلکہ مطابق ہو مگر پھر بھی وہ کسی مفتری کا افترا ہو کیونکہ ایک عقلمند جو مسلمان ہے مگر مفتری ہے ضرور اس بات کا لحاظ رکھ لے گا کہ قرآن شریف کے مخالف کوئی کلام بدعوی الهام پیش نہ کرے ورنہ خواہ مخواہ لوگوں کے اعتراضات کا نشانہ ہو جائے گا۔ اور نیز یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کلام حدیث النفس ہو یعنی نفس کی طرف سے ایک کلمہ زبان پر جاری ہو جیسے اکثر بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے ہیں رات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں۔ غرض کسی کلمہ کا جو بدعوی الہام پیش کیا گیا ہے قرآن شریف سے مطابق ہونا اس بات پر قطعی دلیل نہیں ہے کہ وہ ضرور خدا کا کلام ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ ایک کلام اپنے معنوں کی رو سے خدا کے کلام کے مخالف بھی نہ ہو اور پھر وہ کسی مفتری کا افترا بھی ہو کیونکہ ایک مفتری بڑی آسانی سے یہ کارروائی کر سکتا ہے کہ وہ قرآن شریف کی تعلیم کے موافق ایک کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے اور یا ایسا کلام حدیث النفس ٹھہر سکتا ہے یا شیطانی کلام ہو سکتا ہے۔ ایسا ہی یہ دوسری شرط بھی یعنی یہ کہ جو الہام کا دعویٰ کرے وہ صاحب تزکیہ نفس ہو