حقیقةُ الوحی — Page 30
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح ☆ (۲۸) اور اس کی اُمت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے اور اُس کی ہمت اور ہمدردی نے اُمت کو ناقص حالت پر چھوڑنا نہیں چاہا اور ان پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیض وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص اُمتی نہ ہو اُس پر وحی الہی کا دروازہ بند ہو سو خدا نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھیرایا لہذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا اُمتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پاسکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہوسکتا ہے کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی ہے مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پا نا وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہوا اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفت الہیہ جو مدار نجات ہے مفقود نہ ہو جائے ۔ کسی حدیث صحیح سے اس بات کا پتہ نہیں ملے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے جو امتی نہیں یعنی آپ کی پیروی سے فیض یاب نہیں اور اسی جگہ سے اُن اس جگہ یہ سوال طبعا ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی اُمت میں بہت سے نبی گذرے ہیں۔ پس اس حالت میں موسیٰ کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گذرے ہیں اُن سب کو خدا نے براہ راست چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا لیکن اس اُمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی اسرائیلی نبیوں کو الگ کر کے باقی کو کر کے باقی تمام لوگ اکثر موسوی اُمت میں ناقص پائے جاتے ہیں۔ رہے انبیا ء سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کچھ نہیں پایا بلکہ وہ براہ راست نبی کئے گئے مگر اُمت محمدیہ میں سے ہزار ہا لوگ محض پیروی کی وجہ سے ولی کئے گئے ۔ منہ