حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 532 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 532

روحانی خزائن جلد ۲۲ تاریخ خط نام فریسنده مقام ضلع خط ۵۳۲ تتمه حقيقة ا خلاصه مضمون خط (۴۵) کیکم اپریل محمد علی مدرس تلونڈی سیالکوٹ ۳۱ مارچ کی نسبت جو پیشگوئی تھی صفائی سے پوری ہوگئی ہر ایک موسی خان زبان اقرار کرتی ہے کہ آسمانی انگار جوا۳ / مارچ کو ظہور میں آیا اس ۱۹۰۷ء سے پیشگوئی کی سچائی ثابت ہوگئی۔ (۴۶) ۵رصدر سید قاسم شاہ معین گجرات تصدیق بشرح صدر الدین پور (۴۷) // // (CA) سر را عبداللہ حکیم راہوں جالندھر آسمان اے غافلواب آگ برسانے کو ہے عبد العزیز درگاہی گوجرانوالہ // احمدی والہ (۴۹) (۵۰) "/ (۵۱) میاں محمد دین سیالکوٹ "/ سوار در غلام احمد کریام // "/ محمد حسین آدوارے گوجرانوالہ // کلارک (۵۲) عنایت اللہ کنجاه گجرات " ترجمہ از اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لا ہور مورخہ ۶ را پر پل ۱۹۰۷ء ایک نامہ نگار انگریز سول اینڈ ملٹری گزٹ کی طرف لکھتا ہے کہ جناب آیتوار کی شام کو چار اور پانچ بجے کے درمیان میں نے ڈلہوزی سے شمالی جانب ایک ایسا ہی شہاب دیکھا جیسا آپ کے اخبار مورخہ ۳ را پریل سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی دن اور اسی وقت لاہور میں دیکھا گیا تھا ایک خرطومی شکل کا دخانی ستون جس کا بار یک حصہ نیچے کی طرف تھا۔ ڈلہوزی سے کوئی ہیں میل کے فاصلہ پر اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کی اونچائی سطح ڈلہوزی سے بلند تھی۔ اور اسکی چمک سے پہاڑ کی برف زرد رنگ ہوگئی تھی۔ یہ واقعہ ایسا تعجب انگیز تھا کہ میں دور بین لے کر اُسے زیادہ زور سے دیکھنے لگا۔ پہلے میں نے یہ خیال کیا کہ جنگل میں کہیں آگ لگ گئی ہے اور یہ اُس کا دھواں ہے مگر فوراً مجھے یہ خیال آگیا کہ اس موسم میں جنگل میں آگ نہیں لگ سکتی اور علاوہ اس کے جنگل کی آگ کا دھواں صرف ایک جگہ سے نہیں اُٹھا کرتا بلکہ بہت جگہوں سے اُٹھتا ہے یہ قدرت نمائی پنجاب میں تین جگہ ہوئی جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ شعلہ ایک نہ تھا بلکہ بہت سے شعلوں کی ایک بوچھاڑ تھی اور ہر ایک شہاب کے ساتھ بہت سے چھوٹے ٹکڑے تھے جو کہ کسی نے نہیں دیکھے (۲) بہت سے خطوط سے جو ہمارے پاس آئے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ آیتوار کا شعلہ آتش پٹیالہ سے جہلم تک دیکھا گیا تھا۔ ایک نامہ نگار لکھتا ہے کہ جموں میں اُس کے ساتھ ایک توپ کی آواز تھی کپورتھلہ سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ زمین سے آسمان تک آگ کا ایک ستون نظر آتا تھا جس سے اُس قصہ پر روشنی پڑتی ہے جو یعقوب کی سیڑھی کے متعلق مروی ہے۔ رعیہ میں ۴ آدمی دہشت سے بیہوش ہو گئے۔