حقیقةُ الوحی — Page 29
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹ محمد ود اور ناقص نہ ہوتی جو اب ہے۔ ایسا ہی حضرت عیسی کی ہمت صرف یہود کے چند فرقوں تک محدود تھی جو اُن کی نظر کے سامنے تھے اور دوسری قوموں اور آئندہ زمانہ کے ساتھ اُن کی ہمدردی کا کچھ تعلق نہ تھا اس لئے قدرت الہی کی تجلی بھی اُن کے مذہب میں اُسی حد تک محد ودر ہی جس قدر اُن کی ہمت تھی اور آئندہ الہام اور وحی الہی پر مہر لگ گئی اور چونکہ انجیل کی تعلیم بھی صرف یہود کی عملی اور اخلاقی خرابیوں کی اصلاح کے لئے تھی تمام دنیا کے مفاسد پر نظر نہ تھی اس لئے انجیل بھی عام اصلاح سے قاصر ہے بلکہ وہ صرف ان یہودیوں کی موجودہ بد اخلاقی کی اصلاح کرتی ہے جو نظر کے سامنے تھے اور جو دوسرے ممالک کے رہنے والے یا آئندہ زمانہ کے لوگ ہیں اُن کے حالات سے انجیل کو کچھ سروکار نہیں اور اگر انجیل کو تمام فرقوں اور مختلف طبائع کی اصلاح مد نظر ہوتی تو اس کی یہ تعلیم نہ ہوتی جواب موجود ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ایک طرف تو انجیل کی تعلیم ہی ناقص تھی اور دوسری طرف خود ایجاد غلطیوں نے بڑا نقصان پہنچایا جو ایک عاجز انسان کو خواہ نخواہ خدا بنایا گیا اور کفارہ کا من گھڑت مسئلہ پیش کر کے عملی اصلاحوں کی کوششوں کا یک لخت دروازہ بند کر دیا گیا۔ اب عیسائی قوم دو گونہ بدقسمتی میں مبتلا ہے۔ ایک تو اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی اور الہام مدد نہیں مل سکتی کیونکہ الہام پر جو مہر لگ گئی اور دوسری یہ کہ وہ عملی طور پر آگے قدم نہیں بڑھا سکتی کیونکہ کفارہ نے مجاہدات اور سعی اور کوشش سے روک دیا مگر جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اُس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اُس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اُس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اُس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔