حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 523 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 523

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۲۳ تتمه حقيقة مجھے شناخت کرلیں گے کیونکہ خدا کا ہاتھ اُنہیں دکھائے گا کہ آنے والا یہی ہے۔ پھر میں اپنے مقصد کی طرف رجوع کر کے لکھتا ہوں کہ چونکہ میں آخری خلیفہ ہوں اس لئے حاش चौकानज्ज में सटर किए किणी وقت نہیں وقت ہوتا ہے تو بھائی پیارے بھگتو ان سی جی کا بھات بھرنا بھی پہلے کسی شاستری جی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ شری کرشن چندر مہاراج ایسا بھات دیویں گے اور اسی طرح سینکڑوں بھگتوں کے کار کارج سدھ کر دیئے جیسا کہ پہلا د بھگت کے اُبھارنے کو کہیں ساعت اور تھی نہیں لکھی تھی جب نرسنگھ جی پر گھٹ ہو چکے اور دیت راج کو مار چکے تب ہی تو معلوم ہوا کہ نارا ئین جی نے اپنے بھگت کے ابھارنے کے واسطے اتار لیا ہے۔ اس سبب سے ان کلکی بھگوان مہاراج کا پرگھٹ ہونا۔ مانو سنسار کے سکھ کا مول ہوگا جس طرح بھگوان سورج نارائن کا اودے ہونا سب دنیوی کاروبار و دیگر مخلوقات کے سکھ کا مول ہوتا ہے کیونکہ آنکھوں سے دکھلائی تب ہی دیتا ہے جبکہ اندھیرا دور ہوتا ہے۔ پیارے متر و بچی پرستی اور بھگتی کا تجربہ ایشور کے درشن ہی کرنے کا ہے جیسا کہ شری شوجی مہاراج نے کہا ہے اگ جگ میں سب رہت ورا گی۔ پریم سے پر بھو پرگھٹیں جمی آ گی۔ اپنے شاستروں کے بچے تجربہ کو سچی پریت سے پرتیت کرو کہ کہاں پیدا ہوئے ۔ ہے بدھی والو غور سے سوچو کہ ( دوس تہان جہان بھانو پر کا شو ) سنبھل وہی ہے جہاں نشکلنک جی پر گھٹ ہوں ۔ ہے سجنو! مہاتماؤ ! پنڈ تو ! میرے اس تھوڑے لکھے کو بہت جانو کیونکہ ۸۷ عظمندوں کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اب ایشور مہاراج سے یہی پر ارتھنا ہے کہ آپ جلدی پر گھٹ ہو کر اپنے بھگتوں کو بچاؤ اور اس مایا رو پی جال سے نکالو۔ ورنہ سنسار سب کچھ گیا ہوا ہی ہے اگر میری اس میں کوئی غیر مناسب بات یا بھول ہووے اپنا بچہ سمجھ کر معاف فرمادیں۔ المشتهر بالمکند جی کونچہ پاتی رام دہلی ( مطبوعہ نظامی پریس دہلی ) ترجمہ اس اشتہار کا یہ ہے بے عیب ( معصوم ) بھگوان کا اوتار یعنی مَعْصُوْمِ خَلِيْفَةُ اللَّه اہل دنیا کو واضح ہو کہ آج کل جیسی جیسی بدیاں ہمارے ملک میں ہورہی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں مثلا عورتوں کا بیوہ ہونا اور ساتھ ہی ان بُری باتوں کا بھی ہونا جن کو بچہ بچہ بھی جانتا ہے اور غلہ اور گھی وغیرہ کا اس قدر گراں ہونا اور علاوہ اس کے سیکڑوں قسم کی مصیبتیں ہمارے آریہ ورت (ہندوستان ) پر آئی ہوئی ہیں کہ جس کا ذکر بیان سے باہر ہے۔ یہ آپ لوگوں