حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 505 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 505

روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه حقيقة عیسی کو خدا جانتا تھا اور تثلیث کو تمام دنیا میں پھیلانے کے لئے اتنا جوش رکھتا تھا کہ میں نے باوجود اس کے کہ صد ہا کتا ہیں پادریوں کی دیکھیں مگر ایسا جوش کسی میں نہ پایا چنا نچہ اس کے اخبارلیؤ زآف ہیلنگ مورخه ۱۹/ دسمبر ۱۹۰۳ء اور ۴ ار فروری ۱۹۰۷ء میں یہ فقرے ہیں۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نا بود ہو جاوے۔اے خدا تو ایسا ہی کر ۔اے خدا اسلام کو ہلاک کر دے۔“ اور پھر اپنے پرچہ اخبار ۲ اردسمبر ۱۹۰۳ء میں اپنے تئیں سچا رسول اور سچا نبی قرار دے کر کہتا ہے کہ اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو خدا کا نبی ہو۔ علاوہ اس کے وہ سخت مشرک تھا اور کہتا تھا کہ مجھ کو الہام ہو چکا ہے کہ پچپیش برس تک یسوع مسیح آسمان سے اُتر آئے گا اور حضرت عیسی کو در حقیقت خدا جانتا تھا اور ساتھ اس کے میرے دل کو دکھ دینے والی ایک یہ بات تھی جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ وہ نہایت درجہ پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا اور میں اس کا پرچہ اخبار لیوز آف ہیلنگ لیتا تھا اور اس کی بد زبانی پر ہمیشہ مجھے اطلاع ملتی تھی ۔ جب اُس کی شوخی انتہا تک پہنچی تو میں نے انگریزی میں ایک چٹھی اُس کی طرف روانہ کی اور مباہلہ کے لئے اُس سے درخواست کی تا خدا تعالیٰ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اُس کو بچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔ یہ درخواست دو مرتبہ یعنی ۱۹۰۲ ء اور پھر ۱۹۰۳ ء میں اُس کی طرف بھیجی گئی تھی اور امریکہ کے چند نامی اخباروں میں بھی شائع کی گئی تھی جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں ۔ نمبر نام اخبار مع تاریخ (1) اخبار خلاصه مضمون شکاگو انٹر پریٹر عنوان ” کیا ڈوئی اس مقابلہ میں نکلے گا۔ دونوں تصویریں پہلو بہ پہلو دے کر لکھتا ہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں ڈوئی مفتری ہے اور میں دعا کرنے والا ہوں کہ وہ اُسے میری زندگی میں نیست و نابود کر دے اور پھر کہتے ہیں کہ جھوٹے اور بچے میں فیصلہ کا یہ طریق ہے کہ خدا ۲۸ / جون ۱۹۰۳ء سے دعا کی جاوے کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاوے۔