حقیقةُ الوحی — Page 503
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۰۳ تتمه حقيقة وحی الہی نے مجھے ٹھیرایا ہے اور تبصریح بیان فرمایا کہ وہ میرے حق میں ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا۔ و من ينكر به فلیبارز للمباهلة ولعنة الله على من كذب الحق او افترى على حضرة العزة اور یہ دعوئی امت محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہر گز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔ اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت کس قد ر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے اے نادانو ! میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعوی کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں ۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں ۔ ولكلّ ان يصطلح ۔ اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔ اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو میں اُس کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا اور نہ یقیناً کہہ سکتا کہ یہ اُس کا کلام ہے پر اس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اُس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام دیا۔