حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 499

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۹۹ تتمه حقيقة ا زلزلوں وغیرہ حوادث کی پیشگوئی بھی کی ہے اور صریح طور پر فرما دیا ہے کہ آخری زمانہ میں جبکہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظا ہو ہو نگے وہ عیسی پرستی کی شامت سے ظاہر ہوں گے اور پھر دوسری طرف یہ بھی فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولا پس اس سے مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں ثابت ہوتی ہے کیونکہ جوشخص غور اور ایمانداری سے قرآن شریف کو پڑھے گا اُس پر ظاہر ہوگا کہ آخری زمانہ کے سخت عذابوں کے وقت جبکہ اکثر حصے زمین کے زیروز بر کئے جائیں گے اور سخت طاعون پڑے گی اور ہر ایک پہلو سے موت کا بازار گرم ہوگا اُس وقت ایک رسول کا آنا ضروری ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمايَ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک عذاب سے پہلے رسول نہ بھیج دیں پھر جس حالت میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے وقت میں رسول آئے ہیں جیسا کہ زمانہ کے گذشتہ واقعات سے ثابت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا ہے جس کی نسبت تمام نبیوں نے پیشگوئی کی تھی خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ کی لازم آتی ہے۔ پس وہی رسول مسیح موعود ہے کیونکہ جب کہ اصل موجب اُن عذابوں کا عیسائیت کا فتنہ ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تو ضرور تھا کہ اس فتنہ کے مناسب حال اور اس کے فرو کرنے کی غرض سے رسول ظاہر ہو ۶۵ سواسی رسول کو دوسرے پیرایہ میں مسیح موعود کہتے ہیں پس اس سے ثابت ہوا کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔ ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ اگر قرآن شریف کی رو سے عیسائیت کے فتنہ کے وقت عذاب کا آنا ضروری ہے تو مسیح موعود کا آنا بھی ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عذاب عیسائیت کے کمال فتنہ کے وقت آنا قرآن مجید سے ثابت ہے پس مسیح موعود کا آنا بھی قرآن کریم سے ثابت ہے۔ اسی طرح عام طور پر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم کسی قوم پر عذاب کرنا چاہتے ہیں تو ان کے دلوں میں فسق و فجور کی خواہش پیدا کر دیتے ہیں تب وہ اتباع شہوات اور بے حیائی کے کاموں میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں تب اُس وقت اُن پر عذاب نازل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ امور بھی یورپ میں کمال تک پہنچ گئے ہیں جو بالطبع عذاب بنی اسرائیل : ۱۶