حقیقةُ الوحی — Page 498
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۹۸ تتمه حقيقة ا اُن سے بڑھ کر کوئی ظاہر نہ ہو تب تک ہر ایک کو ماننا پڑے گا کہ یہی فرقہ دجال اکبر ہے جس کے ظہور کی نسبت پیشگوئی تھی۔ یہودی بھی تحریف کرتے تھے مگر وہ تو ایسی ذلت کا نشانہ ہوئے کہ گویا مر گئے ۔ صرف اسی فرقہ نے عروج کیا اور اپنی تمام طاقتوں کو دجل اور تحریف میں خرچ کر دیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ یہ چاہا کہ تمام دنیا کو اپنے جیسا بنا لیں اور باعث شوکت اور طاقت دنیا کے ان کو ہر ایک سامان بھی مل گیا اور انہوں نے دجل اور تحریف میں وہ کام دکھلایا جس کی نظیر ابتدائے دنیا سے آج تک مل نہیں سکتی اور کوشش کی کہ لوگ خدائے واحد لا شریک سے منہ پھیر کرابن مریم کو خدا مان لیں اور ہمارے زمانہ میں یہ کسب اُن کا کمال تک پہنچ گیا اور انہوں نے خدا تعالی کی کتابوں میں اس قدر تصرفات کئے کہ گویا وہ آپ ہی نبی ہیں اس لئے ایسے لوگوں پر دجال کا لفظ بولا گیا یعنی خدا کی کتابوں کی کمال درجہ کی تحریف کرنے والے اور جھوٹ کو سچ کر کے دکھانے والے۔ حدیثوں میں اکثر دجال معہود کی نسبت خروج کا لفظ ہے اور مسیح موعود کی نسبت نزول کا لفظ ہے اور یہ دونوں لفظ بالمقابل ہیں جس سے مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوگا اور خدا اس کے ساتھ ہو گا مگر دجال اپنے مکر وفریب اور دنیا کے سامانوں کے ساتھ ترقی کرے گا۔ ہاں جیسا کہ قرآن شریف میں عیسائیت کے فتنہ کا ذکر ہے ایسا ہی یا جوج ماجوج کا ذکر ہے اور اس آیت میں کہ هُم مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ان کے غلبہ (۲۴) کی طرف اشارہ ہے کہ تمام زمین پر اُن کا غلبہ ہو جائے گا اب اگر دجال اور عیسائیت اور یا جوج ماجوج تین علیحدہ قو میں سمجھیں جائیں جو مسیح کے وقت ظاہر ہوں گی تو اور بھی تناقض بڑھ جاتا ہے مگر بائبل سے یقینی طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ یا جوج ماجوج کا فتنہ بھی درحقیقت عیسائیت کا فتنہ ہے کہ کیونکہ بائبل نے اس کو یا جوج کے نام سے پکارا ہے۔ پس درحقیقت ایک ہی قوم کو باعتبار مختلف حالتوں کے تین ناموں سے پکارا گیا ہے۔ اور یہ کہنا کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا کہیں ذکر نہیں یہ سراسر غلطی ہے کیونکہ جس حالت میں اللہ تعالی نے قرآن شریف میں بڑا فتنہ عیسی پرستی کا فتنہ ٹھیرایا ہے اور اس کے لئے وعید کے طور پر یہ پیشگوئی کی ہے کہ قریب ہے کہ زمین و آسمان اُس سے پھٹ جائیں اور اُسی زمانہ کی نسبت طاعون اور الانبياء: ۹۷