حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 497

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۹۷ تتمه حقيقة الوحى رہے ہیں اور ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ آخری فتنہ جو ظہور میں آیا جس سے کئی لاکھ مسلمان مرتد ہو گیا وہ صرف عیسائیت کا فتنہ ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ پس اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختلاف صرف لفظی ہے یعنی صحیح بخاری میں جس فتنہ کا نام فتنہ صلیب رکھا ہے اور مسیح موعود کو صلیب کا توڑنے والا قرار دیا ہے صحیح مسلم میں اسی فتنہ کا نام فتنہ دجال رکھا ہے اور کسر صلیب کو بطور قتل دجال قرار دیا ہے۔ اور جب ہم زیادہ تصریح کے لئے قرآن شریف کی طرف آتے ہیں جو ہر ایک تنازع کا حکم ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دجال کا نام تک نہیں ہاں عیسائیت کے فتنہ کو وہ بہت بڑا بیان کرتا ہے جو اسلام کے تمام اصول کا دشمن ہے اور کہتا ہے کہ قریب ہے کہ اُس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اسی فرقہ کو خدا کے کلام کا محرف مبدل ٹھیرتا ہے اور جس فعل میں مفہوم دجل درج ہے وہ فعل اسی فرقہ کی طرف منسوب کرتا ہے اور سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ عیسائیت کے فتنہ سے خدا کی پناہ مانگیں جیسا کہ وَلَا الضَّالين کے معنے تمام مفسرین نے یہی کئے ہیں۔ پس قرآن شریف کے اس فیصلہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ جس فتنہ سے حدیثوں میں ڈرایا گیا ہے وہ صلیبی فتنہ ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جب تھوڑے سے دجل کی کارروائی سے انسان دجال کہلا سکتا ہے تو جس فرقہ نے تمام شریعت اور تعلیم کو بدل دیا (۱۳) ہے کیا وجہ کہ وہ دجال نہیں کہلا سکتا ؟ اور جبکہ خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کے دجل کی خود گواہی دی ہے تو کیا وجہ کہ وہ دجال کے نام سے موسوم نہ ہوں؟ ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں وہ دجال اکبر نہیں کہلا سکتے تھے کیونکہ ابھی بددیانتی اور خیانت کمال کے درجہ کو نہیں پہنچی تھی صرف دجال ہونے کی بنا پڑی تھی مگر بعد اس کے ہمارے زمانہ میں جبکہ چھاپنے کی کلیں بھی نکل آئیں تب پادریوں نے تحریف اور تبدیل کو کمال تک پہنچا دیا اور کروڑ ہا روپیہ خرچ کر کے اُن مصرف کتابوں کو شائع کیا اور لوگوں کو مرتد کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تب خدا کا نوشتہ پورا ہوا جیسا کہ واقعات ظاہر کر رہے ہیں اور دجال اکبر کے نام کے مستحق ہو گئے اور جب تک مخالفت حق اور تحریف و تبدیل میں