حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 489

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۸۹ تتمه حقيقة الوحى وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَادٍ أَثِيمٍ وَيْلٌ يَوْمَبِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ یه ۵۵ آیتیں ہیں جو اُس نے لکھی ہیں چنانچہ ایک آیت میں تو اُس شخص پر لعنت کی گئی ہے جو جھوٹ بولتا اور افترا کرتا ہے اور دوسری آیت میں اُس شخص پر لعنت کی گئی ہے جو بچے کی تکذیب کرتا ہے پس یہی مباہلہ ہے اور تیسری آیت میں عام طور پر جھوٹے پر لعنت کی ہے اور جیسا کہ میں نے لکھا ہے جب یہ شخص اس کتاب کو شائع کر چکا تو ایک سال تین ماہ کے بعد مر گیا۔ اب ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اسلام میں مباہلہ ایک فیصلہ کن امر قرار دیا گیا ہے۔ پس جبکہ مجھے حکیم حافظ محمد دین نے اپنی اس کتاب میں مفتری ٹھیرایا اور میرا نام افساک اٹیم رکھا اور پھر اپنی کتاب کے صفحہ ۶۳ میں میری نسبت یہ آیت لکھی وَيْلٌ لَكُلِّ آفَّابِ أَلِيم يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَى عَلَيْهِمْ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَانْ لَّمْ يَسْمَعُهَا فَبَشِّرُهُ بِعَذَابٍ أَلِيم " یعنی لعنت ہے مفتری گنہگار پر جو خدا کی آیتوں کو سنتا ہے پھر تکبر کی راہ سے انکار پر اصرار کرتا ہے گویا کچھ بھی نہیں سنا۔ پس اُس کو تو دردناک عذاب کی بشارت دے پس یہ شخص محمد دین یہ آیات لکھ کر یہ اشارہ کرتا ہے کہ گویا میں افاک اٹیم ہوں اور اس کی زندگی میں ہی درد ناک عذاب میں مبتلا ہو جاؤں گا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی موت سے فیصلہ کر دیا کہ کون افاک اٹیم ہے۔ (۷) ساتواں نشان ۔ ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء کی صبح کو یہ الہام ہوا ۔ سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہو گی خوش آمدی نیک آمدی ۔ چنانچہ یہ پیشگوئی صبح کو ہی قبل از وقوع تمام جماعت کو سنائی گئی اور جب یہ پیشگوئی سنائی گئی بارش کا نام ونشان نہ تھا اور آسمان پر ایک ناخن کے برابر بھی بادل نہ تھا اور آفتاب اپنی تیزی دکھلا رہا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج بارش بھی ہو گی اور پھر بارش کے بعد زلزلہ کی خبر دی گئی تھی۔ پھر ظہر کی نماز کے بعد یک دفعہ بادل آیا اور بارش ہوئی اور رات کو بھی کچھ برسا اور اُس رات کو جس کی صبح میں ۳ / مارچ ۱۹۰۷ء کی تاریخ تھی زلزلہ آیا جس کی خبریں عام طور پر مجھے پہنچ گئیں پس اس پیشگوئی کے دونوں پہلو تین دن میں پورے ہو گئے۔ یہ لفظ آیت قرآنی کا اس شخص نے بوجہ عدم علم قرآن کے غلط لکھا ہے صحیح اس طرح ہے۔ يسمع آيات الله تُتلى عليه منه الجاثية : ٨ ٢ المطففين: ١١ ٣ آل عمران : ۶۲ - الجاثية: ٩،٨